مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 116 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 116

116 حضور اقدس پرانے قصر خلافت کے ایک لمبے سے بر آمدے میں تشریف فرما تھے۔وہی ہشاش بشاش چہرہ ، وہی مسکراہٹ۔قطعاً یہ تاثر نہیں ملتا تھا کہ آپ ایک سنگین بحران میں جماعت کی قیادت فرما رہے ہیں اور خود بہت سے بد خواہوں کا ارادہ آپ کی ذات کو بھی نشانہ بنانے کا ہے۔میں اور قادر روزانہ ایک لمبے عرصہ تک اُس بر آمدے میں حاضر ہوتے تھے۔مجھے یاد نہیں کہ کبھی ایک مرتبہ بھی حضور کو فکر مند دیکھا ہو یا یہ تاثر ہی ملتا ہو کہ آپ بہت مصروف ہیں۔آپ خاندان والوں میں اُسی اعتماد اور خوش دلی سے تشریف فرما ہوتے تھے۔مجھے یاد ہے جب ہم ایبٹ آباد سے آنے کے بعد آپ کی خدمت میں پیش ہوئے تو آپ نے مسکرا کر فرمایا۔تشریف لے آئے آپ !“ پھر میرے والدین کا نام لے کر از راہ مذاق فرمانے لگے کہ بچوں کو پھینک دیا ہے کہ ربوہ میں پڑھائی اچھی نہیں ہوتی۔اساتذہ کی طرف سے قائدانہ صلاحتیوں کا اعتراف: قادر صاحب اپنی کلاس میں Senior prefect بھی رہے۔Prefect اور Senior prefect جیسا کہ نام سے ظاہر ہے دو علیحدہ علیحدہ عہدے ہیں۔Senior prefect اعلیٰ عہدہ شمار ہوتا تھا۔یہ عہدہ نہ صرف یہ کہ سب سے اچھے اور ہونہار طالب علم کو ملتا تھا بلکہ یہ عہدہ دیتے وقت دیکھا جاتا تھا کہ کون سا طالب علم تعلیمی لحاظ سے سب سے آگے ہے، کھیلوں میں سب سے اچھا ہے۔نیز دوسروں طلباء پر اُس کا اثر کس طرح کا ہے۔کیا اُس میں قائدانہ صلاحیتیں موجود ہیں؟ اور سب سے اہم یہ کہ اساتذہ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟ یہ سب باتیں Senior prefect بناتے وقت مد نظر رکھی جاتی تھیں۔زمانہ طالب علمی میں اساتذہ کی طرف سے قادر کو