مرزا غلام قادر احمد — Page 97
97 قادر طرح ہوتے ہیں۔ہر پھول کی اپنی خوشبو اور رنگت ہوتی ہے۔مرزا غلام قو احمد چمن میں کھلے ہوئے اُس گلاب کی مانند تھا جو ہزار پھولوں میں اپنی منفرد خوشبو اور رنگت کی وجہ سے ممتاز ہوتا ہے۔قادر کی معصومیت اور بھولے پین میں ایک نُور کی سی کیفیت تھی جیسے کوئی فرشتہ ہو۔قادر میرے پاس فضل عمر اسکول میں پہلی سے پانچویں تک پڑھا ہے۔اُن دنوں اسکول میں طریق تھا کہ ایک کلاس ایک اُستانی کو دے دی جاتی اور وہ نہ صرف سارے مضامین پڑھاتیں بلکہ بچے کی ذہنی، جسمانی، علمی اور دینی سب لحاظ سے نشوونما کی ذمہ داری ادا کرتیں۔اس طرح بچوں سے بہت قریب ہونے کا موقع ملتا ہے۔میرا کئی سالہ تجربہ ہے کہ پڑھنے والے طلباء کی عموماً دو قسمیں ہوتی ہیں۔ایک وہ جو بہت محنت کر کے کامیاب ہوتے ہیں اور ایک وہ جو اپنی خداداد ذہنی صلاحیت کی بناء پر زیادہ محنت کئے بغیر ہی کامیاب ہو جاتے ہیں اور قادر اُنہی میں سے تھا یعنی اسے پرائمری میں بہت زیادہ محنت نہ کرنا پڑی تھی۔یوں بھی اس عمر میں بچہ شعور کے پختہ نہ ہونے کے باعث فطری طور پر پڑھائی کی نسبت کھیل کی طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے۔اس لئے میرا بھی یہی طریق ہوتا تھا کہ کھیل ہی کھیل میں بچے کو کام کی بات سکھا دیتی تھی۔میرا اپنا یہ خیال ہے کہ قدرت نے قادر کو ذہن دیتے وقت کافی فراخدلی کا مظاہرہ کیا تھا۔یہی وجہ تھی کہ جو بات یا سبق وہ ایک بارسُن لیتا فوراً حفظ کر لیتا جسے آپ اُس وقت ہی نہیں بلکہ بعد میں بھی سنیں تو وہ حرف بحرف سُنا دے۔الحمد للہ کہ اب بھی میں تصور کی آنکھ سے اُس تجھے منے قادر کو دیکھ سکتی ہوں اور یقین سے کہتی ہوں کہ بعض اوقات جب میں نے کوئی سوال کلاس میں پوچھا تو سب سے بلند اور سب سے پہلے ہاتھ کھڑا کرنے والا قادر ہوتا تھا۔گو کہ وہ بہت لائق سٹوڈنٹ نہ تھا لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ کوئی نالائق