مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 96 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 96

96 قادر کے بڑے بھائی محترم مرزا محمود احمد آپ کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں بتاتے ہیں۔وو قادر مجھ سے عمر میں آٹھ سال چھوٹا تھا۔بچپن میں اسے پیار سے کیکی کہا جاتا تھا۔اور یار دوست مذاق سے میر تقی میر کی نسبت سے میر کی کی میں بھی کہہ لیتے تھے۔محترمہ مسز عطیہ صاحبہ اور مسٹر صغریٰ صاحبہ، یہ دونوں ٹیچرز اسکول میں ہمیں پڑھاتی تھیں اور تقریباً ہم سبھی بہن بھائیوں کو گھر آ کر بھی پڑھاتی رہی ہیں۔قادر کو قرآنِ کریم بھی مسز صغری نے ختم کروایا تھا۔اسکول کو ہم یوں تو کنڈر گارڈن کی نسبت کے۔جی اسکول کہتے تھے۔لیکن اسکول کا اصل نام فضلِ عمر جونئیر ماڈل اسکول تھا۔اسکول میں ٹیچر ز عموماً بچوں کے حساب سے تقسیم کی گئی تھیں یعنی بالکل ابتدائی کلاس پریپ وغیرہ کسی ایک ٹیچر کے ذمہ ہوتی تھی جو اس عمر کے بچوں کو سنبھالنا اچھی طرح جانتی تھیں۔اس کے بعد اگلی دو کلاسز کسی اور متعلقہ ٹیچر کے ذمہ اور پھر چوتھی پانچویں کلاس قدرے زیادہ تجربہ کار اور اس عمر کے طلباء و طالبات کو کنٹرول کر لینے والی ٹیچر کے ذمہ کر دی جاتی تھیں۔بعض اوقات یوں بھی ہوتا تھا کہ نرسری کہ بعد کوئی ایک ٹیچر ہی کلاس کو پانچویں تک پڑھاتیں جیسا کہ نرسری کے بعد قادر احمد بھی مسلسل پانچویں کلاس تک ایک ہی ٹیچر یعنی مسر حبیبہ مجید سے پڑھتے رہے۔پانچویں کے بعد لڑ کے کسی اور اسکول میں داخلہ لے لیتے۔قادر احمد شروع میں پڑھائی کی نسبت کھیل میں زیادہ دلچسپی لیتا تھا اور پرائمری تک کرکٹ اس کا پسندیدہ کھیل تھا۔“ پرائمری اسکول میں قادر کی ٹیچر محترمہ حبیبہ مجید صاحبہ نے اپنے تأثرات اس طرح بیان کئے ہیں۔” مجھے سینکڑوں بچوں کو پڑھانے کا اتفاق ہوا ہے۔بچے پھولوں کی