مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 494 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 494

494 ترجمه : ا مرنے سے کیا ہوتا ہے میں بس ذرا دوسرے کمرے تک گیا ہوں نہ وہ تم بدلے نہ ہم ہم اب بھی وہی ہیں جو ہم ایک دوسرے کے لئے تھے۔مجھے اُسی بچپن کے رکھے ہوئے گھر کے نام سے بلا یا کرو میرے متعلق اُسی آسانی سے باتیں کرو جیسے تم کیا کرتے تھے اپنے لہجے میں کوئی فرق نہ لاؤ اپنے اوپر غم وحزن کو طاری نہ ہونے دو اُسی طرح ہنستے رہو جیسے ہم چھوٹے چھوٹے لطیفوں پر مل کر ہنسا کرتے تھے کھیلو، مسکراؤ مجھے یاد کرو میرے لئے دُعا کرو میرا وہی نام لیلا کرو جس سے گھر والے ہمیشہ مجھے پکارتے تھے پہلے کی سی بے تکلفی سے میرا نام لیا کرو اس پر کوئی غم کے سائے نہ ڈالو فاصلے بڑھ گئے پر قرب تو سارے ہیں وہی بزمِ جہاں اُسی طرح سجی ہوئی ہے اس میں وہی مکمل اور اٹوٹ تسلسل ہے یہ موت کیا ہے۔بھلا دیا جانے والا حادثہ میں یادوں سے محو کیوں ہو جاؤں صرف اس لئے کہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا ہوں میں منتظر ہوں کبھی تو آ کے ملو گے کہیں بہت جلد کہیں۔۔بہت قریب سب خیر ہے