مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 489 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 489

489 بیٹھ جاتی ہوں قادر کی کچھ اور باتیں کرنے کے لئے۔جانتی ہوں! یہ تشنگی تو ایسی ہے جس کا ساتھ اب عمر بھر کا ہے۔یہ تو ایسی بھڑ کی ہے جو ہمیشہ لگی رہے گی۔وہ ایسا باپ تھا جو اپنے بچوں کو ایک روشنی دکھا گیا۔ہمیشہ سچ پر قائم رہنے والی روشنی میں بچوں کو یہی سمجھاتی ہوں کہ تمہارے باپ نے سچ کی خاطر اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی تم سب بھی ہمیشہ سچائی پر قائم رہنا۔اُس کی شہادت کے ساتھ میری زندگی کا ایک موسم ختم ہوا۔اس کا عرصہ بہت مختصر مگر بہت شاندار تھا۔ہم اپنی ہی چھوٹی سی دنیا میں مگن تھے۔ہماری دلچسپیاں ہمارے شوق ایک تھے۔اُس کے ساتھ بیتا ہوا وقت یادگار ہے۔زندگی میں کوئی ایک شخصیت ایسی ہوتی ہے جس پر آپ کو مان ہوتا ہے۔میری زندگی میں یہ شخصیت قادر کی تھی۔میں نے اس سے بہت کچھ سیکھا۔کئی مواقع ایسے آئے جب کسی خاص بات پر اسکا رد عمل دیکھ کر موازنہ کرتی تھی کہ اگر یہی بات میرے ساتھ ہوتی تو کیا میرا رد عمل بھی یہی ہوتا جو قادر کا تھا؟ جو اب ہمیشہ نفی کی صورت میں ملا۔اتنی گہری نیکی مجھ میں نہیں ہے یہ اسی بندے کا رف ہے۔اپنے نفس میں مطمئن وہ بہت پیارا انسان جب گیا تو میرے گھر کی ساری رونق بھی ساتھ لے گیا لیکن اپنے بچوں کی صورت میں کچھ پھول مجھے دے گیا۔ہر بچے میں اس کی الگ ادا ہے اور اب ان کی رونق میرے گھر کو روشن کئے رکھتی ہے۔قادر کے بعد سے میں سوچتی ہوں کہ ہم کیسے کہہ دیتے ہیں کہ زندگی اور موت کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے۔مجھے تو لگتا ہے کہ موت سے زیادہ دُور کوئی چیز نہیں۔شروع میں جب زخم کچا تھا سب تسلی دیتے تھے۔وقت کے ساتھ انشاء اللہ صبر آجائے گا، زخم بھی کچھ بھر جائے گا، سب