مرزا غلام قادر احمد — Page 477
477 گیا لیکن کیا؟ ان کے مرنے سے یہ فرقہ وارانہ جنگ ختم ہو گئی، ہر گز نہیں اور اب حکومت اور پولیس کے لئے محرم الحرام کے مہینے میں ہونے والی وارداتوں کو روکنا ایک پیج بنا ہوا بنا ہوا ہے۔کیونکہ حساس ادارے نے سنگین حالات کی نشاندہی کر دی ہے۔لہذا حکومت کو چاہئے کہ وہ اس تعصب کی آگ کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے لئے کوئی دوسری حکمت عملی اپنائے۔وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لئے خصوصی احکامات جاری کئے تھے، اعجاز جی اور طارق محمود ورک کو پہلے ہی شناخت کر لیا گیا تھا : ڈی ایس پی ڈی ایس پی چنیوٹ سید جماعت علی شاہ نے بتایا کہ اعجاز فوجی عرف جی اور طارق محمود ورک کو پہلے ہی شناخت کر لیا گیا تھا۔جبکہ باقی دوملزموں کی شناخت ان کے لواحقین نے چنیوٹ تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال پہنچ کر کی۔جس کے مطابق ممتاز حسین اور بشیر احمد وہاڑی کے رہنے والے ہیں۔وہ ڈیرہ غازی خان جیل توڑ کر فرار ہوئے تھے۔اور انہوں نے اپنا الگ سے ایک گینگ بنا کر غلام محمد سواگ ایم پی اے کوٹ کرم شاہ ملتان، کبیر والا ، اور خانیوال کے امام باڑوں میں نمازیوں پر فائرنگ کی تھی۔اسکول کے سرغمال بننے والے بچوں نے بتایا کہ چاروں ملزمان مسجد میں مورچہ بند ہو کر تین گھنٹے تک پولیس سے مقابلہ کرتے رہے۔اور انہوں نے بچوں میں پانچ پانچ سو اور ہزار ہزار روپے کے نوٹ بھی تقسیم کئے اور کہا کہ ہمارے بچنے کے لئے دعا کرنا۔ایک بچے نے بتایا کہ مسجد سے ایک انگوٹھی ملی ہے جس پر بشیر احمد کندہ تھا۔