مرزا غلام قادر احمد — Page 476
476 سامنے کھڑی بس کا ڈرائیور توفیق احمد اور مسافر خاتون ٹیچر مسمات نسرین زخمی ہو گئے۔اعجاز حجی اور طارق محمود وغیرہ چار افراد واردات کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔اس کی اطلاع جب ڈی ایس پی جماعت علی شاہ کو ہوئی تو انہوں نے ملزمان کا تعاقب شروع کر دیا۔اور آگے دوسری پولیس کو بھی ناکہ لگانے کی ہدایت کرتے رہے۔یوں پولیس نے انہیں چار اطراف سے گھیر لیا۔اسی دوران چک نمبر 237 ج ب کے قریب ملزمان کی گاڑی کچی جگہ سے پھسل کر گر گئی۔انہوں نے یہاں سے بھاگ کر ایک اسکول میں پناہ لے لی مگر پولیس نے گرینڈ آپریشن کے لئے آس پاس کے علاقوں سے مزید فورس جن میں ایلیٹ فورس بھی شامل ہے، کو بلوایا۔پولیس نے اعلان کر دیا کہ ملزمان گرفتاری دے دیں تو یہی ان کے لئے بہتر ہے۔مگر ملزمان نے گرفتاری دینے کی بجائے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی۔پولیس نے جوابی فائرنگ کی۔اعجاز جی جو اپنے ساتھیوں سمیت اسکول میں چھپا تھا۔اس نے شاید بچوں کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کے پیش نظر اسکول کے ساتھ واقع مسجد میں پناہ لے لی۔پولیس کی بھاری نفری بکتر بند گاڑیوں نے اسکول اور مسجد کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔اسی اثناء میں ملزمان نے راکٹ لانچر سے بھی پولیس پر فائر شروع کر دیے جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے شیلوں کی بارش کر دی۔پولیس مقابلے کا یہ سلسلہ کافی دیر جاری رہا۔اور بالآخر اعجاز احمد حجی اور طارق محمود سمیت چاروں افراد اس مقابلے میں ہلاک ہو گئے۔پولیس نے ان کی نعشوں کو قبضے میں لے لیا اور اعجاز جی کی کٹی انگلی دیکھ کر اس کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضہ سے 1 راکٹ لانچر، 5 گولے، 22 دستی بم، 6 ٹائم بم، 2 ایل ایم جی ، 2 پستول، 1 ماؤزر اور 1 کلاشنکوف برآمد ہوئی۔اعجاز حجی اپنے ساتھی طارق محمود ورک سمیت پولیس مقابلے میں مارا