مرزا غلام قادر احمد — Page 473
473 km from here۔More than 1,000 people attended their funeral prayers mid night security arrangement by police Earlier their bodies were brought here at 5am from the Allied Hospital, Faislabad۔Police kept the Vehari district sealed for the last 24 hours, and checked every entry in the district۔20 /اپریل 1999ء کو روزنامہ خبریں میں شائع ہونے والی تفصیل ڈکوٹہ دہشت گردی کی واردات میں ملوث 23 افراد کے قاتل کس طرح انجام کو پہنچے؟ چنیوٹ پولیس مقابلے" کی اصل کہانی حقائق پر مبنی المشافات کی تحقیقی رپورٹ چنیوٹ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے دو افراد اعجاز احمد نجی تارڑ اور طارق محمود ورک جن پر پولیس نے اغواء، ڈکیٹی اور قتل جیسی سنگین نوعیت کی وارداتوں کے علاوہ مفروری کے مقدمات درج کر رکھے ہیں۔اور جن کے سروں کی قیمت حکومت پنجاب نے 60 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔پنجاب پولیس کے لئے ان کی گرفتاری چیلنج بن کر رہ گئی تھی۔بے شمار مقدمات اور مفروری کے باوجود ان کی دہشت اس قدر تھی کہ بڑے بڑے پولیس افسران ان کا نام سُن کر خوف زدہ ہو جایا کرتے تھے۔شاید یہی وجہ تھی کہ دونوں دہشت گردوں نے اپنا مشن جاری رکھا۔جس کے باعث ملک فرقہ وارانہ تعصب کا شکار ہو گیا۔اور امن کی صورتحال بگڑتی چلی گئی۔جو موجودہ حکومت کے لئے بلاشبہ ایک چیلنج تھی۔جس پر وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے پورے ملک اور بالخصوص کراچی اور پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے کے لئے تمام متعلقہ محکموں کو خصوصی ہدایات جاری کیں۔جس پر پولیس سمیت دیگر حساس