مرزا غلام قادر احمد — Page 474
474 ادارے بھی حرکت میں آگئے۔اور انہوں نے اپنی اپنی جگہ کام شروع کر دیا اور اس کام کی ابتداء چنیوٹ سے ہوئی۔جہاں ایس ایس پی جھنگ محمد اسلم ترین، ڈی ایس پی جماعت علی شاہ اور دیگر پولیس افسران نے عرصہ دراز سے مفرور اعجاز احمد نجی جن کے سروں کی قیمت 50 لاکھ روپے جبکہ طارق محمود ورک جس کے سر کی قیمت 10 لاکھ روپے مقررتھی، ان دونوں دہشت گردوں کو کئی دنوں کی جدو جہد کے بعد پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔مقابلے میں ہلاک ہونے والے اعجاز حجی اور طارق ورک کے بارے میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں۔اس کے مطابق دونوں دہشت گردوں کا تعلق کسی امیر گھرانے سے نہیں تھا بلکہ وہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔اور نہایت ہی کم تعلیم یافتہ تھے۔اعجاز احمد نجی تارڑ جس پر پولیس نے قتل، اغواء برائے تاوان ، ڈکیتی جیسے سنگین الزامات میں 15 مقدمات درج کر رکھے تھے۔وہ ایک اسکول ماسٹر محمد انور تارڑ کا بیٹا تھا۔اور میلسی ڈکوٹہ فائرنگ کیس کا مرکزی کردار بھی تھا۔اس واقعہ میں ایک مجلس عزاء پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 23 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔اعجاز حجی عرف فوجی جس کا تعلق ایک سادہ گھرانے سے تھا۔فوج میں بھرتی ہو گیا لیکن کچھ عرصہ بعد ہی اس نے فوج چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔اس نے با قاعدہ استعفیٰ بھی بھجوایا جو منظور نہ ہو سکا۔بالآخر اعجاز جی نے اپنی ایک انگلی کاٹ کر خود کو مس فٹ ظاہر کر کے ریٹائرمنٹ لے لی۔پھر اس نے وہاڑی شہر میں بھی برائلر مرغی فروخت کرنے کے لئے اڈہ لگا لیا، مگر یہ کاروبار بھی ٹھیک طریقے سے نہ چل سکا۔تو اس نے ایک علاقے میں چوکیداری شروع کر دی۔اسی دوران اس کی دوستی گجر برادری کے ایک شخص سے ہو گئی۔جو کچھ عرصہ بعد ایک دوسری انتہا پسند مذہبی تنظیم کے ہاتھوں قتل ہے گیا۔اعجاز جی کو اس کا شدید رنج تھا۔بعد ازاں اس نے اپنے دوست کا بدلہ لینے کے لئے مخالف تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی اور یہیں سے اس نے جرائم کی دنیا میں اپنا قدم رکھا۔سب سے بڑی واردات ڈکوٹہ میں 23 افراد کو ہلاک کر کے کی۔اعجاز حجی نے اپنے دوست کے مخالفوں کو بھی قتل کر کے بدلہ چکا دیا۔اس پر بوریوالا کے مشہور تاجر شیخ ابراہیم کو ہو