مرزا غلام قادر احمد — Page 374
374 معصوم اک گھیرا گیا پھر قاتلوں کے شہر میں حکم رئیس شہر تھا گردن تنے جو کاٹ دو سر جس کا سارے شہر سے اُونچا بنے وہ کاٹ دو تیغ ستم کے سامنے ہم کلمہ پڑہتے آئے ہیں بچے ہمیشہ جھوٹ کی سولی پہ چڑہتے آئے ہیں ہم ظلمتوں میں نور کی آیات پڑہتے آئے ہیں ہر گام منزل کی طرف آدیکھ شام کربلا۔۔۔۔آدیکھ شام کربلا۔۔۔۔۔۔ہم زین بڑہتے آئے ہیں آدیکھ شام کر بلا۔آدیکھے۔۔طیبه زین (Steinau) ماہنامہ خدیجہ جرمنی مئی 1999ء)