مرزا غلام قادر احمد — Page 375
375 مہ شہادت کا چودھواں دن ہر اک بشر کو رلا رہا ہے زمیں بھی ڈوبی ہوئی ہے غم میں فلک بھی آنسو بہا رہا ہے وہ اک حسین و جمیل پیکر مسیح دوراں کا ایک گوہر بطیب خاطر رہِ شہادت پہ چل کے جنت کو جا رہا ہے کوئی تشدد نہ کر سکا تجھے زیر پیارے غلام قادر ترا ہر اک زخم نوک خنجر کو دیکھ کر مسکرا رہا ہے عدو کے چنگل میں تیری جرات اسی کرامت کی تھی ضرورت تری شجاعت کی داستانیں چناب ہم کو سنا رہا ہے ترا شہیدانِ دور حاضر میں ایک اونچا مقام ٹھہرا ترے لہو کا ہر ایک قطرہ ترے شرف کو بڑھا رہا ہے خدایا کچھ بھی نہ رحم آیا یزیدیت کو حسینیت پر دمِ شہادت جو تو نے جھیلا وہ درد ہم کو رلا رہا ہے بچا لیا تو نے اک جہاں کو دیا جو اپنے لہو کا صدقہ یہ ہے وہ معرفت کا نکتہ جو ایک عارف بتا رہا ہے ہماری رہ میں ہیں کر بلائیں مگر ہے مستور اُن میں جنت قدم مل رہا ہے مژدہ نظام کو جلد آ رہا ہے