مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 366 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 366

366 وو کتنے دلوں کی ساتھ وہ تسکین لے گیا اور ساتھ ہی سکوں بھی دلاتا ہوا گیا اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد ٹوٹے دلوں کی آس بندھاتا ہوا گیا گلرنگ پتیاں سی بکھرتی چلی گئیں شہر وفا کی راہ سجاتا ہوا گیا اک یار دلربا کے لبوں یہ ہیں اس کے وصف وہ رشک کے چراغ جلاتا ہوا گیا الفضل انٹر نیشنل 4 جون 10 جون 1999ء) سینتیس برس کا ہے جواں ہے مرا مرزا تم ڈھونڈ کے لے آؤ کہاں ہے مرا مرزا قربانی و ایثار و حلیمی میں ہے بے مثل اسلاف کی عظمت کا نشاں ہے مرا مرزا دلداری و دلسوزی میں ریشم کی طرح نرم خودداری میں اک کوہِ گراں ہے مرا مرزا وہ اس کا دل آویز تکلم وہ تبسم اک ماہر انداز بیاں ہے مرا مرزا نذرانہ جاں عین جوانی میں کیا پیش صد رشک جوانانِ جہاں ہے مرا مرزا