مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 342 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 342

محترم سید محمود احمد صاحب: 342 ہمارے قادر۔پیارے قادر دیے جلائے ہوئے ساتھ ساتھ رہتی ہے تمہاری یاد تمہاری دعا ہمارے لئے : پہ ”مرزا غلام قادر چناب کے پل پر شہید ہو گئے“ سنانے والا تو یہ خبر سُنا کے چلا گیا مگر خبر نے ایک عجیب کیفیت میں مبتلا کر دیا۔یقین نہیں آرہا تھا دل چاہتا کہ اللہ کرے یہ خبر غلط ہو۔بہر حال چندلمحوں میں ایک ”سرو جوان“ ہم سے جدا ہو گیا۔بلانے والا تو جب چاہے جسے چاہے اپنے پاس بلا لے۔اسی پر اے دل تو جاں فدا کر وفات سے چند دن پہلے قادر اپنی بیگم اور بچوں کے ساتھ نرسری آیا تھا اسے دیکھ کر میں نے اپنے ایک دوست سے کہا تھا کہ یہ جوڑی مثالی ہے۔قادر اور اس کی بیگم کو دیکھ کر دل سے دُعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جوڑی کو سلامت رکھے۔نہ جانے کیوں اس جوڑی کو دیکھ کے دل سے سلامتی کی دُعائیں نکل رہی تھیں۔قادر تو حقیقی سلامتی پا گیا اور جاتے جاتے جوڑی امر کر گیا۔قادر! تو جانے کے بعد بہت یاد آیا ہر لمحہ جو اس کے ساتھ گزرا آج آئینہ بن کے سامنے آرہا ہے وہ دن جب ایبٹ آباد سے چھٹیوں میں ربوہ آتا اور ہمارے ساتھ فٹبال کھیلتا تھا۔قادر فٹبال کا بہت اچھا کھلاڑی تھا۔ایبٹ آباد