مرزا غلام قادر احمد — Page 341
341 پر ہاتھ رکھے گا اور نرم سی آواز میں کہے گا کہ فضیل صاحب تسی ایس انجینئراں دی میٹنگ وچ کی کر رہے او یا کبھی ٹیلیفون کی گھنٹی بجے گی اور کوئی ملائم سی آواز آئے گی فضیل صاحب آج پروگرام نہیں ہو سکدا میں زمیناں تے جا رہیاواں یا پھر کبھی کوئی آکر مجھ سے کہے گا کہ ” تہاڈے دفتر دی چاء بڑی مزیدار ہون دی اے پھر میری سوچ پر وہ آوازیں حاوی ہو جاتی ہیں جو میرے اردگرد سے اُبھر رہی ہیں۔جا قادر تو نے اپنی منزل کو پالیا لیکن ہمارے لئے ایسا چراغ روشن کر دیا جو ہمیں تا ابد روشنی دیتا رہے گا اور ہم اس روشنی کو تیری یادوں کے چراغ جلا کر بڑھاتے رہیں گے۔(ماہنامہ ” خالد ربوہ ستمبر 1999ء)