مرزا غلام قادر احمد — Page 340
340 متعدد مرتبہ نماز پر دیکھا وہ کس طرح ہر رکن نماز کو پیار سے ادا کر رہا ہوتا کہ مجھے بھی خیال ہوتا کہ کاش میں بھی اسی طرح نماز ادا کر سکوں۔مجھے ربوہ اور بیرون ربوہ کئی طرح کے تعلیمی اداروں میں پڑہنے کا موقع ملا ہے۔National Institue of Modern Language (نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ماڈرن لینگو سنج) اسلام آباد میں بھی پڑھا ہوں جہاں ہمارے ساتھ اعلیٰ عہدیدارن بھی تھے۔سینکڑوں لوگوں سے ملنے کا موقعہ ملتا رہا اور اب بھی ملتا ہے لیکن اخلاق، کردار اور اعلیٰ ترین تعلیمی قابلیت کا حسین اجتماع جو قادر کی ذات میں تھا وہ بھت کم نظر آتا ھے۔تعلیم ہمیں کیا سکھاتی ہے یہی ناں کہ ہم دوسرے کی رائے کا احترام کریں۔اپنی بات منوانے کی صلاحیت رکھتے ہوں لیکن تحکم اور اپنے اعلیٰ منصب کی بدولت نہیں بلکہ اپنی رائے اور قوتِ اخلاق سے۔قادر میں سب سے بڑی خوبی جو مجھے نظر آئی وہ اس کا دوسرے کی رائے کا احترام کرنا اور پھر اگر اس رائے کو صائب پانا تو اس کو قبول کر لینا لیکن اگر اس رائے کو درست نہ سمجھنا تو پھر اپنی رائے کو نہایت قابلیت اور مدلل انداز میں پیش کرنا۔اور پھر جب دوسرا فرد اس رائے کو قبول کر لیتا تو اس کے چہرے پر جیسے مسرت کے سوتے پھوٹ پڑتے لیکن ان میں بعض کم ظرف لوگوں کی طرح طنز اور تلخی اور تضحیک کی آمیزش نہ ہوتی بلکہ اس میں شکر گزاری اور امتنان کا پہلو نمایاں ہوتا۔جب سے قادر کی شہادت ہوئی ہے میں اکثر سوچتا ہوں کہ میرا اس کا کیا رشتہ تھا۔احمدیت کا رشتہ جو تمام رشتوں اور بھائی چارے پر حاوی ہے۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ کیا وہ دن لوٹ آئے گا جب اچانک کوئی میرے کندھے