مرزا غلام قادر احمد — Page 330
330 صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب کی والدہ محترمہ قدسیہ بیگم صاحبہ نے الفضل 7 جون کی اشاعت میں کچھ حالات تحریر فرمائے جو برستی آنکھوں سے ہی پڑھ سکا ہوں لیکن اس کے مطالعہ سے یہ حیرت انگیز اور ایمان افروز حقیقت سامنے آئی کہ سیّدہ ممدوحہ نے اتنی کاری ضرب کے صدمہ جانکاہ کے باوجود کمال صبر اور راضی برضاء الہی رہنے پر پورا عمل کیا۔اور اپنے لختِ جگر کی اس جان کی قربانی پر باوجود شدید رنج و الم کے اس لحاظ سے مسرت اور خوشی کا بھی اظہار کیا کہ ان کی گود کا پالا ہوا سپوت وہ پہلا فرزند مسیح موعود علیہ السلام تھا جس نے اپنا جوان خون ملت کے کھیت کی آبیاری کے لئے پیش کر دیا۔سیدہ موصوفہ نے ایک جگر پاش کر دینے والا جملہ بھی اپنے مضمون میں شامل کیا۔کہ ” میرے بچے صبر اپنی جگہ اور ممتا اپنی جگہ اس میں شک نہیں کہ اس مقدس خاندان کی ممتا بھی بے مثال ہے اور صبر بھی بے نظیر ورنہ ہمارے ملک میں ایسے سانحات ہو جائیں تو سینہ کوبی اور بال نوچنے بلکہ زنجیر زنی تک نوبت آتی ہے۔مگر اس مقدس خانوادے کے مقتدا اور پیشوا نے آنسو بہانے کو بھی صرف پیش ربّ ذوالمنن‘ تک ہی محدود کر دیا ہے۔اور سیدنا مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کی اصلاح اسی طور پر کی ہے کہ سارا ” بث و حزن الله قدیر و عزیز ہی کے حضور پیش کیا جائے اور کوئی شکوہ کہیں اور نہ ہو۔اس جگہ اس صدی کے ابتدائی سالوں میں ہونے والے 14 جولائی 1903ء کے دردناک واقعہ کے متاثرین میں سے حضرت شہزادہ صاحب آف افغانستان کے بیٹے صاحبزادہ سید محمد طیب صا۔