مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 32 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 32

32 تھا جہاں قادر سفید اچکن اور سفید پگڑی پہن کر سرخوش و سرشار دولہا بنا تھا، وہی کمرہ ہے جہاں شرمائی، لجائی دلہن لے کر آیا تھا۔وہی در و دیوار تھے، وہی سفید لباس مگر زندگی کی رمق باقی نہیں تھی۔ماں نے بڑھ کے ماتھا چوم کر بیٹے کو تسلی دی۔اپنے نو عمر بچوں کی فکر نہ کرنا ہم اُن کا جی جان سے خیال رکھیں گے۔جزاک اللہ میرے بچے جزاک اللہ۔تمہاری جان کا نذرانہ مجھے سرفراز کر گیا۔میں صبر کر لوں گی جو تمہاری قربانی کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتا مگر مامتا کو کیا کروں۔ایسے اندوہ کے وقت باپ کی کمر ٹوٹ جاتی ہے مگر جس انداز میں صبر کی توفیق ملی قابل رشک ہے اگر چہ خنجر کے وار جو بیٹے نے سہے تھے، اپنے دل پر محسوس ہو رہے تھے مگر لبوں پر دعا تھی۔”اے غلام قادر تجھ پر سلام۔تم خدا کے دین پر شار ہوئے۔اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے۔خدا اسے قبول فرمائے اور اپنا قرب عطا فرمائے۔“ 15 اپریل کو خاندان مسیح موعود کے اس پہلے شہید کو سفر آخرت پر روانہ کر دیا گیا۔قادر مرحوم کے بھائی مکرم مرزا محمود احمد صاحب ملائشیا سے آگئے۔ربوہ کے سارے محلوں سے نماز عصر کے وقت احباب بیت مبارک میں جمع ہوئے۔بیت مبارک کا سارا مسقف حصّہ بھر گیا، سارا صحن بھر گیا یہاں تک کہ آخری دیوار تک صفیں چلی گئیں۔ٹھیک پانچ بجے صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب نے نماز عصر اور اس کے بعد نماز جنازہ پڑھائی۔تقریباً پون گھنٹے تک لوگوں نے دو قطاروں میں گزرتے ہوئے شہید مرحوم کا آخری دیدار کیا۔روشن