مرزا غلام قادر احمد — Page 320
320 خوب سجی یادوں کی محفل مہمانوں نے تاپے ہاتھ ہم نے اپنا کوئلہ کوئلہ دل دہکایا ساری رات اللہ تعالیٰ کی حکمت کا کمال ہے کہ اُس نے حضور کی خطبات کے ایک سلسلے کی طرف رہنمائی فرمائی۔قدرتی طور پر ساری جماعت کا رُخ قر بانیوں کے اس خوشگوار پہلو کی طرف ہو گیا کہ جان دی۔دی ہوئی اُسی کی تھی مگر دعاؤں کی سلسبیل جاری ہوگئی وو 30 اپریل 1999ء کے خطبہ جمعہ میں حضور ایدہ الودود نے فرمایا:- عزیزم غلام قادر کی شہادت کے تعلق میں جو سلسلہ خطبات شروع ہوا ہے ان سب کا عنوان یہی آیت ہے (سورۃ البقرہ آیت (155) کہ خدا کی راہ میں جو لوگ مارے جائیں ان کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم لوگوں کو شعور نہیں ہے“ اس تسلسل میں آج کے خطبے کا آغاز میں اپنی عزیز بھانجی نچھو کے خط کے تذکرے سے کرتا ہوں۔انہوں نے جو تفصیلی خط لکھا ہے اس میں لکھتی ہیں کہ مجھے اس خیال سے بے حد خوشی ہوتی ہے کہ غلام قادر کی شہادت کی وجہ سے وہ سلسلہ شروع ہوگیا شہادتوں کے تذکرے کا جس میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف کی شہادت سے شروع ہو کر پھر آخر میں دوسرے شہیدوں کا ذکر خیر جاری ہو گیا۔وہ لکھتی ہیں کہ مجھے خوشی اس بات سے ہوتی ہے کہ میرا خاوند آغاز بن گیا ہے اس کا اس کی شہادت کے ذکر سے یہ سارے پیارے پیارے ذکر چل پڑے اور بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس ذکر خیر پر