مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 321 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 321

321 اُٹھنے والی دُعاؤں میں اس کو شریک رکھے اور غلام قادر کے درجات بھی اس ذکر خیر کی وجہ سے بڑھاتا رہے۔“ 7 مئی 1999ء کے خطبہ جمعہ میں آپ نے ارشاد فرمایا:- وو ” جب شہیدوں کا ذکرِ خیر چلا تو اس وقت اس کثرت سے شہدا کے نام نہیں تھے جو اب اس مضمون کے تتبع سے آہستہ آہستہ نکل آئے ہیں عزیزم غلام قادر سے اُمید ہے اُس کو بھی اس کے ثواب سے محروم نہیں رکھے گا کیونکہ بہت سے ایسے نام ہیں جن کو عام یاد بھلا چکی تھی پس ضروری تھا کہ ان کا ذکر بار بار چلے۔اب جو پاکستان میں خصوصیت سے ہمارے اسیرانِ راہ مولا پڑے ہوئے ہیں ان میں سے بھی اکثر کے نام لوگ بھلا چکے ہوں گے لیکن اپنے قفس میں بیٹھے ہوئے ان کا دل تو چاہتا ہوگا کہ قفس اُداس ہے یارو صبا سے سے کچھ تو کہو کہیں تو بہر خدا آج ذکرِ یار چلے تو آج جو میرے یار ہیں وہ ان کے بھی تو یار ہیں۔جنہوں نے راہِ احمدیت میں بے شمار قربانیاں پیش کیں تو یہ ذکرِ خیر جو آج میری زبان سے جاری ہو رہا ہے۔ہوسکتا ہے آج کے قفس کی فضاؤں کو بھی روشن کر دے اور کچھ دیر تک وہ لوگ جو اس کو سنیں ان یادوں میں محو ہو جائیں جو ان کو بھی بہت پیاری ہیں اور اس سے خود تسلی پائیں کہ بڑی بڑی عظیم قربانیاں دینے والے پہلے گزر چکے ہیں۔“ ( خطبه جمعه 7 رمئی 1999 ء الفضل 3 راگست 1999ء) آخر شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ صاحبزادی قدسیہ بیگم کے نام خطوط میں آنسوؤں کی نمکینی محسوس