مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 307 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 307

307 قادر کا چہرہ نمایاں تھا۔اسی قسم کا احساس مجھے شہادت سے دو دن پہلے ہوا وہ گھر آیا۔اپنی Study میں داخل ہوا۔اُس نے میری طرف دیکھا تو اُس کا چہرہ اُسی طرح روشن اور شاندار ہو کر سامنے آیا جیسے چمکتا ہوا چاند ہو۔میں اس تجربے کو کوئی نام نہیں دے سکتی مگر مجھے اسی طرح محسوس ہوا تھا۔بیوی کی اپنے شوہر کے کردار پر رائے کی کتنی اہمیت ہوتی ہے اس کا اندازہ ہمیں سیدۃ النساء حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اُس بیان سے ہوتا ہے جو آپ نے پہلی وحی کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گھبراہٹ دور کرنے کے لئے دیا تھا۔شوہر تو سب کہہ دیں گے: أَنَا خَيْرُ كُمْ لِاهلِى مزا تو یہ ہے کہ بیوی کہے کہ میرے شوہر نے میرے ساتھ بہترین سلوک کیا۔نصرت نے آپس کے پیار کی کئی باتیں بتائیں جن سے گھر کی فضا میں محبت کے راج کا علم ہوتا تھا کھانے پہننے کے ذکر میں بتایا: ”کھانے میں اُسے سبزیاں پسند نہ تھیں بلکہ قیمہ، گوشت اور کباب وغیرہ شوق سے کھاتا تھا چاول بھی پسند تھے۔کھانا بہت تھوڑا لیتا تھا لیکن وقفے وقفے سے پسند کی کوئی چیز کھاتا رہتا۔یعنی ایک ہی وقت میں سیر ہو کر نہ کھاتا تھا لباس صاف ستھرا اور پسند کے مطابق پہنتا تھا۔“ گھروں میں آپس کی رفاقت سے جو محبت بھری فضا بنتی ہے اُس کے مظاہر ایسے نہیں ہوتے جنہیں تحریر میں لایا جاسکے۔آنکھوں کی چمک، چہرے کی رونق، کسی وعدے کو پورا کرنے کی لذت کبھی انتظار میں یکدم سامنے آکر کوئی تحفہ پیش کر دینا۔سب محسوسات کی باتیں ہیں نچھو کو کسی شادی میں ملتان جانا ہے سیٹ نہیں مل رہی۔قادر یہ نہیں کہتے کہ سیٹ نہیں ملی اب کیا ہوسکتا ہے بلکہ