مرزا غلام قادر احمد — Page 308
308 کہتے ہیں کہ میں ٹیکسی کرا دیتا ہوں تم ملتان چلی جاؤ۔نچھو کے بھائی کو ڈاکو زخمی کر کے چلے جاتے ہیں تفصیل سنتے ہوئے قادر کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو بہنے لگتے ہیں۔کیسی کیسی محبت بھری ادائیں ہیں جن سے دلوں کے نگر آباد رہتے ہیں۔قیمتی جذبوں سے سجے گھر میں رہنے والے قادر نے ایک دفعہ نچھو کو سمجھایا کہ ہم گھر کو ساز و سامان سے نہیں سجائیں گے۔مجھے سادے گھر پسند ہیں۔وہ زندگی وقف تھے۔انہیں تو اللہ تعالیٰ کے لئے جینا تھا نہ کہ دنیاوی عیش کے سامانوں کے لئے۔نصرت اور بچوں کے لئے بہت دعاؤں کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ ان کو سلسلہ در سلسلہ خوشخبریوں کا حقیقی وارث بنائے۔آمین