مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 306 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 306

306 ہم نے سارے البم دیکھے ایک ایک تصویر کی روداد دوہرائی۔” دیکھیں اس میں ہم سیر کر رہے ہیں۔یہ فلاں علاقہ ہے اس تصویر میں بچوں کو گود میں اُٹھایا ہوا ہے بڑا اور ہم مچاتے تھے۔یہ تصاویر ہم نے آٹو میٹک کیمرے سے لی تھیں۔آپ یہ دیکھ تو لیں لیکن کتاب میں نہ لکھ دینا۔“ نچھو کے بے ساختہ الفاظ کے ساتھ اُن کی آنکھوں کی خاموش اُداسی دل میں گہرا گھاؤ لگا رہی تھی۔مگر ایک سوال جو میں سوچ کر آئی تھی پوچھ ہی لیا۔آپ کو کیسے خبر ملی تھی شہادت کی؟ میں کچن میں کھانا بنا رہی تھی جب قادر کی بہن نے بتایا کہ قادر کو گولی لگ گئی ہے اور وہ چینوٹ اسپتال میں ہے جلدی چلو۔میں سارا راستہ اُس کی کامل صحت والی زندگی کی دعا مانگتی رہی۔مجھے علم نہیں تھا کہ اُسے گولی کہاں لگی ہے۔بے اختیار دعا کر رہی تھی کہ خدایا اُسے محتاجی کی زندگی سے بچانا۔مچھو نے یادوں کے سارے دریچے کھول دئے عجیب کھوئے کھوئے انداز میں بتایا۔قادر کی شہادت سے چند دن پہلے پھولوں کی نمائش ہوئی تھی اُس میں ایک دن میں اور قادر کی بہن فائزہ بیٹھے قادر کا انتظار کر رہے تھے جس نے تھوڑی دیر میں آنا تھا فائزہ نے کہا کہ دیکھو قادر آ گیا ہے۔اس کی بات پر میں نے مڑ کر دیکھا تو قادر کے چہرے پر کچھ ایسا تھا جسے میں بیان نہیں کر سکتی لیکن وہ چہرہ ہمیشہ کے لئے میرے ذہن میں نقش ہو گیا۔اُس پر کوئی خاص بات تھی کہ میں لمحہ بھر کے لئے چونک گئی تھی حالانکہ رات کا وقت تھا اور وہاں بہت سے لوگ تھے مگر اس ایک لمحے سب چہرے پس منظر میں کھو گئے تھے صرف