مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 305 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 305

305 پر چھائیاں دیکھنا بڑا مشکل کام ہے۔کسی کے غم کریدنا اچھا تو نہیں لگتا مگر اپنے پیاروں کو یاد کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔نچھو نے بچے اپنی امی کے گھر بھیج دیے ہوئے تھے اور چائے بنا کے رکھ لی تھی اس لئے ہم نے جی بھر کے قادر کی باتیں کیں نچھو ذہین اور سمجھدار ہیں کم عمری میں ذمہ داریوں کے احساس نے اُن کی خود اعتمادی میں اضافہ کیا ہے۔دل میں اُتر جانے والا گفتگو کا انداز اپنا اسیر بنا لیتا ہے۔قادر کے بچے بہت پیار کرنے والی ماں کی آغوش میں پرورش پا رہے ہیں اللہ تعالیٰ خود مربی وکفیل ہو۔آمین ماحول کو متوازن رکھنے کے لئے موضوعات میں تنوع سے بہت دلچسپ باتیں بھی معلوم ہوئیں نچھو نے بتایا کہ ہم دونوں جونیئر ماڈل اسکول میں پانچویں تک ساتھ پڑھے تھے۔قادر جب بھی زیادہ تر خاموش ہی رہتا (عمر میں بہت کم فرق ہونے کی وجہ سے نچھو اسی طرح کہتی ہیں) مگر ہنستا بہت تھا بہت پیارا ہنستا تھا بعض دفعہ تو اُس کے بننے کے انداز پر ہنسی آجاتی۔مجھے سے پیار کی بعض باتیں تو اُس نے خود مجھے بھی نہیں بتائی ہوئی تھیں۔ہمارے رشتے کے بعد Slam Book میں زندگی کے ” بہترین لمحات“ کے عنوان کے تحت اس نے لکھا تھا۔The happiest moment of my life is my rishta with Nusrat۔ہم دونوں ہی اس شادی سے بہت خوش تھے اور ساتھ رہتے ہوئے یہ احساس ہوتا کہ ہر چڑہنے والا دن ہماری چاہتوں میں اضافہ کرتا۔وہ ایک متوازن شوہر تھا اُس کی داڑھی تو تھی مگر وہ ملا نہیں تھا۔ہم بہت اچھا وقت گزارتے“۔