مرزا غلام قادر احمد — Page 304
304 محترمہ امة الناصر نصرت صاحبہ کے ساتھ ایک اس کتاب کی تیاری کے سلسلے میں خاکسار نصرت سے گفتگو کرنے کے لئے تحریک جدید کے کوارٹر نمبر گیارہ میں داخل ہوئی تو ایک محشر خیال ہم رکاب تھا۔نصرت اس زندہ تاج محل میں تنہا تھیں قادر کی Study میں ایک میز پر ایک کمپیوٹر سوگوار پڑا تھا۔الماری میں ترتیب سے رکھی ہوئی اُس کی کتابیں مانوس لمس کو ترس رہی تھیں۔برآمدے میں بڑے فریم میں لگی ہوئی مختلف خوشگوار یادگار لمحوں کی تصاویر خاموش زبان سے ایک محبت کرنے والے جوڑے کی داستانِ حیات سنا رہی تھیں۔گھر کی ایک ایک چیز وہیں تھی جہاں قادر کے ہاتھ اُسے رکھ گئے تھے۔خواب گاہ کے منظر میں تصاویر کے ساتھ اُن کی خوشبو بھی آنے لگی۔زندگی کے ساتھی کے بغیر نصرت کو اس کمرے میں رہنا کیسا لگتا ہوگا۔روتے روتے سینے پر سر رکھ کر سوگئی ان کی یاد کون پیا تھا کون پریمی ، بھید نہ پایا ساری رات سرہانے کی کھڑ کی کھولی تو چھوٹا سا صحن خوبصورت باغیچے کا جاندار منظر پیش کر رہا تھا شیڈ والا لیمپ اس کے حسن میں اضافہ کر رہا تھا۔یہ نظارہ بہت ہی بھلا لگا چیزیں تو یہاں دنیا میں رہ جاتی ہیں اُن کی خوبی تو یہ تھی کہ وہ اپنی خوشگوار یادیں چھوڑ کر گئے تھے۔اپنی ماں کی ہم شکل نچھو کے چہرے پر غم کی