مرزا غلام قادر احمد — Page 293
293 ایک غیر از جماعت اُستاد بشارت صاحب نے جو اس کے ہاؤس ماسٹر بھی رہے ہیں اور اب ایبٹ آباد پبلک اسکول کے وائس پرنسپل ہیں۔ماموں کو تعزیت کے خط میں لکھا۔چند حصے لکھتی ہوں۔دو غلام قادر ساتویں میں میرے پاس آیا اور مجھے اس کی تربیت پر فخر ہے کہ وہ اپنی قابلیت سے کالج کا Senior Perfect بنا اور پھر بورڈ میں صوبہ بھر میں اول آیا پھر لکھتے ہیں۔” مجھے غلام قادر کتنا عزیز تھا وہ خود بتا سکتا تھا اور جانتا تھا اور میرا دل جانتا ہے۔مجھے کتنا دکھ اور رنج ہے یہ میرا ہی دل جانتا ہے۔اس کے انمٹ نقوش میرے دل میں بڑے گہرے ہیں۔۔۔غلام قادر تو ان معدودے چند میں سے ہے جن پر میری جان بھی قربان ہے 66 انمول خراج تحسین اور سب سے بڑا خراج تحسین تو اسے خلیفہ وقت نے دیا جس کا کوئی مول نہیں۔اس قدر محبت سے اس کے لئے آنسو بہائے۔اتنے پیار سے اس کا ذکر کیا اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا اپنے مسیح موعود علیہ السلام پر کیا ہوا الہام " غلام قادر آگئے گھر نور اور برکت سے بھر گیا اس پر چسپاں کیا۔وہ یہ سب سن لیتا تو خوشی سے جھوم اُٹھتا۔میری اپنے رب کے حضور التجا ہے کہ اے اللہ ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں سے بنانا تو نے ہم جیسے کمزوروں کو اپنی راہ کے لئے چنا تو بلند شان والا ہے اور ہم انتہائی گناہ گار، ہمیں ثبات قدم عطا فرما۔تو خود ہم سب کا محافظ ہو جانا۔حضرت صاحب نے فون بند کرتے ہوئے آخر میں ان الفاظ میں مجھے دُعا دی تھی کہ :