مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 292 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 292

292 دل وہیں چھوڑ آئی ہوں۔14 اپریل کی صبح ناشتے پر بھی میں اسے وہاں کی باتیں بتاتی رہی۔پھر وہ ناشتہ کر کے تیار ہو کے چلا گیا اور میں اسی اُداسی کی وجہ سے میز پر بیٹھی روتی رہی اور وہاں سے اُٹھ کر آئی تو وہ اپنی کوئی چیز ڈھونڈ رہا تھا اور پھر ہمیشہ کے لئے اس گھر کو خدا حافظ کہہ گیا۔اس کا وہی چہرہ میری نظر میں ٹھہر گیا ہے۔شاید میری اُداسی مجھے پہلے سے خبر دے رہی تھی کہ کچھ ہونے والا ہے۔میرا دوست وہ میرا بہترین دوست تھا، میری خوشیوں کو ترجیح دینے والا اور میرے لئے غیرت رکھنے والا ، وہ میرے دل کی ڈھارس تھا، اس کے بغیر میں کتنی اداس ہوں کوئی نہیں جان سکتا سوائے خدا کی ذات کے۔اپنے بچوں سے بے حد پیار کرنے والا باپ تھا۔بچوں میں اس کی جان تھی۔بچے اس کو اس قدر یاد کرتے ہیں کہ میں بیان نہیں کر سکتی۔مجھے اپنے دُکھ سے زیادہ بچوں کی اُداسی تکلیف دیتی ہے کیونکہ میں نے خود چھوٹی عمر سے یتیمی کا دُکھ دیکھا ہوا ہے میں جانتی ہوں کہ یہ دُکھ بعض دفعہ کس قدر بے قرار کر دیتا ہے۔Twins میں سے ایک بیٹا سارا دن قادر کی تصویر ساتھ لے کر پھرتا ہے۔کرشن چند دن ہوئے مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ ماما قیامت کب آئے گی۔میں نے کہا بیٹے اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔کیوں تم کیوں پوچھ رہے ہو تو روتے ہوئے کہنے لگا ماما دُعا کرو قیامت جلدی آجائے میرا بابا سے ملنے کو بہت دل کرتا ہے لیکن میں جانتی ہوں کہ اس عارضی سہارے کے جُدا ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ خود ہمارا سہارا بنے گا جو اصل اور دائمی سہارا ہے اور اسی کی ہمیں ضرورت ہے۔وہ اپنے اُستاد کے لئے بہترین شاگرد تھا۔اس کی وفات پر اس کے