مرزا غلام قادر احمد — Page 290
290 ٹھیک سوئے تھے اب سحری کے وقت وہی خاص مسکراہٹ تمہارے چہرے پر ہے ضرور کوئی خاص خواب ہی دیکھی ہوگی۔اور واقعی میرا قیاس درست نکلا کوئی خواب ہی دیکھی تھی جس پر مسکرارہا تھا۔بس ایک مذاق جو مجھے اس کا کبھی پسند نہیں آیا وہ یہ کہ کئی دفعہ سانس روک کر لیٹ جاتا تھا اور میرے شور مچانے پر کہ قادر ایسے مذاق نہ کیا کرو بے حد ہنستا تھا۔وفات سے ایک ماہ پہلے بھی سانس روک کر لیٹ گیا۔میری نظر نہیں پڑی، اچانک زور سے اس کی آواز آنے پر میں نے پوچھا کہ قادر کیا ہوا تھا تو ہنس کر کہنے لگا کہ میں نے سانس روکا ہوا تھا کہ تم سمجھو گی کہ مر گیا ہے تو دیکھوں کہ تمہاری کیا حالت ہوتی ہے۔آج اگر وہ یہ حالت دیکھ لے جو اس کے جانے کے بعد میری ہے تو میرے ساتھ وہ بھی تڑپ کر رو دے۔میرے شوق پورے کئے شکار اور کھیل کا شوقین تھا اور Tough تھا ایبٹ آباد اسکول میں Football ٹیم کا Captain بھی رہا ایک دفعہ لاہور سے ایبٹ آباد تک کا سفر سائیکل پر کیا۔Hiking پر بھی دو تین دفعہ گیا۔ہم ناران گئے تو وہاں سے جھیل سیف الملوک تک ہماری بیٹی سطوت کو جو دو سال کی تھی کندھے پر اُٹھا کر پیدل گیا۔میرے بھی اس قسم کے شوق پورے کئے۔شادی کے بعد ہمارے پاس موٹر سائیکل تھی اور مجھے موٹر سائیکل سیکھنے کا بہت شوق تھا۔قادر نے مجھے موٹر سائیکل چلانی سکھائی اور جب میں پریکٹس کرتی تھی تو میرے پیچھے بیٹھ جاتا تھا۔ہمیں اپنی بے انتہا مصروفیت کی وجہ سے گھر میں کم وقت دیتا تھا اس لئے زمینوں یا ربوہ سے باہر جہاں بھی ذاتی کام سے جاتا تھا (جو اسے زمینوں کے سلسلہ میں اکثر جانا پڑتا تھا) تو ہمیں بھی ساتھ لے جاتا تھا۔چھٹی والے دن