مرزا غلام قادر احمد — Page 259
259 میں بشارتوں کے پورا ہونے کے بعد کے لئے خود کو عمل اور دُعا سے اس کا اہل بنانا ضروری ہے۔یہ تسلی کاہل نہ بنا دے کہ ہمارے لئے بشارتیں ہیں ہمیں نیک عمل کی ضرورت نہیں۔جس طرح انذاری خوابیں دُعا اور صدقہ سے ٹل جاتی ہیں اسی طرح بشارتیں بھی بُرے اعمال سے مل سکتی ہیں میرے خیال میں تو خدا تعالیٰ ایک ٹارگٹ دے دیتا ہے کہ کوشش کرو تو یہاں تک پہنچ سکتے ہو۔ایک دفعہ امی مجھ سے کہنے لگیں کہ دُختِ کرام میرے لئے جو حضرت صاحب کا الہام ہے۔وہ ہے تو ایک ہی۔مگر بہت گہرے معنی رکھتا ہے۔مجھے اس وقت خیال ہوا کہ امی کو یہ احساس ہوا ہے کہ باقی بچوں کے لئے تو کئی کئی الہام ہیں۔مگر میرے لئے صرف ایک ہے۔ایک تو ہم میں آپس میں حجاب بھی بہت تھا۔دوسرے اس لئے کہ امی کو یہ احساس ہے کہ میرے لئے صرف ایک ہی الہام ہے۔میں چپ رہی اور بات آگے نہ بڑھائی امی جان اپنے بچپن کے احساسِ محرومی کی وجہ سے غیر معمولی حساس تھیں اور اتنی ہی غیور بھی تھیں۔اس وجہ سے کبھی یہ اظہار نہ ہونے دیتی تھیں کہ مجھے فلاں چیز کی کمی کا احساس ہے۔اماں جان حضرت سیّدہ نصرت جہاں بیگم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد سب کو منع کر دیا تھا کہ امی کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی بات نہ کرو۔ان کا مقصد تھا کہ آپ کا ذکر ان کو تکلیف دے گا امی کو بڑے ہونے تک اس کا احساس رہا جب میری بہن کے میاں چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر وفات پاگئے تو امی ہمیشہ کہتی تھیں کہ اپنے بچوں سے باپ کی باتیں کرو۔کیونکہ مجھے آج تک صدمہ ہے کہ اماں جان نے میرے صدمے کے خیال سے سب کو روک دیا تھا کہ میرے سامنے کوئی ذکر نہ کرے۔مجھے صدمہ ہوگا۔اس لئے میرے ذہن میں باتیں بھی نہ رہیں اور حجاب بھی بیٹھ گیا۔اسی لئے ہم قادر کے بچوں سے بھی قادر کی باتیں کرتے ہیں