مرزا غلام قادر احمد — Page 258
258 سوچتا ہوگا امی اتنی قریب آکر بھی میرے پاس نہیں آئیں بس یہی کاش۔۔۔رہ گیا ہے یا تنہائی کے آنسو اس وقت مجھے اپنا بہت پرانا خواب یاد آرہا ہے کہ قادیان میں دار الحمد حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی کوٹھی ہے امی میرے پیچھے چھری لے کر بھاگ رہی ہیں جیسے مجھے ذبح کرنا چاہتی ہوں اپنے بچاؤ کے لئے کافی بھاگ کر میں کھڑی ہو جاتی ہوں اور امی کو رحم طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے کہتی ہوں امی! آپ ماں ہیں، آپ کہتی ہیں مجھے پتہ ہے اور میں سر جھکا دیتی ہوں گردن پر ٹھنڈی چیز لگتی ہے چھری ہے یا خون کی دھا۔۔۔۔۔۔۔اور میری " آنکھ کھل جاتی ہے۔اُس وقت میری ایسی ہی کیفیت تھی مولا تو ماں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے اگر تیرا یہی فیصلہ ہے تو میں گردن جھکا دیتی ہوں۔زندگی کی تڑپ تڑپ کر دُعائیں مانگیں مگر جب خدا کا فیصلہ آ گیا تو بے صبری کا ایک لفظ نہیں کہا“۔خاکسار نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اولاد کے لئے بہت بشارتیں عطا فرمائی ہوئی ہیں آپ ان کو کس طرح پورا ہوتے دیکھ رہی ہیں؟ ” بہت سی باتیں ہیں کچھ ٹھوس حقائق ہیں، کچھ ذوقی باتیں ہیں۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ازالہ اوہام پڑھ رہی تھی صفحہ 136 پر تحریر ہے۔" حضرت امام حسین علیہ السلام کو اپنی مظلومانہ زندگی کی رُو سے حضرت مسیح سے غایت درجہ کی مماثلت ہے اور حضرت مسیح کو جو امام حسین سے تشبیہ دی گئی ہے یہ استعارہ در استعارہ ہے خدا بہتر جانتا ہے۔مگر میرا دھیان اس طرف گیا وہاں نواسہ رسول تھا۔یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پڑپوتا اور پڑ نواسہ تھا۔خدا کرے ہماری نسلیں ان بشارتوں کی اہل بنیں۔میرے خیال 66