مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 257 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 257

257 تو غم کی کیفیت بہت لمبی چلتی ہے۔یا بعض غم ہوتے ہی ایسے جان لیوا ہیں کہ اس درد کی ٹیسیں ختم نہیں ہوتیں۔اگر کوئی یہ بات مجھے اس درد سے گزرنے سے پہلے بتاتا تو میں یقین نہ کرتی اسی طرح کوئی دوسرا شاید محسوس نہ کر سکے۔یقین نہ کرے۔اسی کو احساس کی شدت کہتے ہوں گے۔جب وہ مجھے شدت سے یاد آتا ہے تو مجھے اپنے پیٹ میں بچے کی حرکت محسوس ہوتی ہے آخر یہاں ہی تو اس کی روح پڑی تھی شاید اس کی روح بھی میرے ساتھ تڑپتی ہو۔آپ نے اتنا صبر کیسے کر لیا؟ میرے سوال پر وہ کچھ دیر خاموش رہیں پھر اُسی عالم میں ہولے سے جواب دیا: ” خدا کے نزدیک صبر کا بہت اجر ہے ورنہ بندہ تو مجبور ہے صبر کے مجھے میں قوت ارادی زیادہ نہیں ہے مگر اُس وقت کوئی تائید الہی تھی لئے۔خدا کا ہاتھ میرے سر پر تھا کہ جب قادر کا پتہ چلا کہ وہ جا چکا ہے تو میں نے کہا: خدایا میں صبر کروں گی۔اور میں نے خدا کے فضل سے صبر کیا۔مگر ایک دُکھ بھولتا نہیں کہ وہ ابھی رخصت ہی ہوا تھا۔کچھ عرصہ روح کا تعلق جسم سے رہتا ہے اس کا ماتھا گرم ہوگا۔کاش میں اُسے جا کر پیار کر لیتی، چند قدم کا فاصلہ تھا۔ساتھ کے کمرے میں دروازہ بھی نہیں تھا صرف پردہ پڑا تھا۔بس یہ دُکھ بھی بھولتی نہیں۔وقت ہاتھ نہیں آتا۔بندہ چلا جاتا ہے اور پیچھے صرف اے کاش۔۔۔رہ جاتا ہے۔اپنے بچے سے منہ موڑ کر صبر کر لیا اور اسپتال سے واپس گھر آگئی مُڑ کر نہ دیکھا کہ اب وہ خدا کا ہو چکا ہے اگر اُس وقت اس کے پاس چلی جاتی تو یہ بے صبری نہ ہوتی۔شاید اس کا بھی دل چاہ رہا ہو کہ امی میرے پاس ہوں وہ