مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 242 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 242

242 محترمہ صاحبزادی قدسیہ بیگم: یادوں کی اک زنجیر ہے جو ٹوٹتی نہیں قادر نے وقف کر کے مجھے وہ خوشی دی کہ سات بادشاہتیں بھی بیچ ہیں حضور نے فرمایا قادر تمہارا ہی نہیں میرا بھی ہیرا بیٹا تھا قادر میرا بچہ کبھی ایک بچے کی صورت میں میرے سامنے آجاتا ہے، کبھی اپنے تعلیمی دور میں ابھرتی اور بڑھتی ہوئی جوانی میں کبھی فارغ التحصیل اپنے کام میں جتا ہوا اور اس کا ہر روپ خدا کے فضل سے ظاہر و باطن میں ایک حسین روپ ہوتا ہے تعلیمی دور بہترین رہا۔صوبہ سرحد سے انٹر کے امتحان میں صوبہ بھر سے اول آنے پر گورنر کی طرف سے میڈل ملا قادر کو اور ہمیں اس تقریب میں بلایا گیا۔پھر حضرت خلیفہ اُسیح الثالث کے ہاتھوں سے جماعت کی طرف سے گولڈ میڈل لیا۔کسی وقت اس کی یاد محو نہیں ہوتی۔میں رات کو کروٹ کروٹ اس کو یاد کرتی ہوں اور کہتی ہوں قادر تم رات کو تو میرے پاس نہیں ہوتے تھے اب ایسے گئے ہو کہ رات کو بھی میرے پاس ہوتے ہو اور اس وقت مجھے اس کی بیوی کا خیال آتا ہے جس کے پاس اس کے دن رات گزرتے تھے اور میں تڑپ تڑپ کر اس کے لئے دُعا کرتی ہوں اے خدا اس کی بے قراریوں کو قرار دینا۔اے خدا ہمیں ایک دوسرے کے لئے تسکین کا باعث بنا کہ ہمارا غم سانجھا ہے ہم ایک دوسرے کو غم کو سمجھنے والے بنیں۔میرا غم کوئی نہیں سمجھ سکتا