مرزا غلام قادر احمد — Page 216
216 جلسہ سالانہ 1991ء پر قادیان تشریف لے گئے۔ان کو مہمان خانہ مستورات میں ڈیوٹی ملی۔ایک رات کو ایک خاتون دیر سے مہمان خانہ میں پہنچیں۔جبکہ رجسٹریشن و دیگر انتظامات کروانے والے کارکن واپس جا چکے تھے۔اس وجہ سے اس خاتون کو کسی بھی کمرے میں جگہ نہ مل سکی۔انہیں باہر برآمدے میں ٹھہر نا پڑا۔موسم بے حد سرد تھا ٹھنڈی یخ ہوا چل رہی تھی۔میاں صاحب نے فوراً ارد گرد سے بینچ اور فرنیچر وغیرہ اُٹھوا کر اس خاتون کے گرد رکھوا دئے تاکہ ان کو ٹھنڈی ہوا نہ لگے یہی نہیں بعد میں آپ نے اس اجنبی خاتون کے لئے اپنا اوورکوٹ بھی اتار کر دے دیا۔تاکہ اوڑھ کر سردی سے محفوظ رہے۔آخر کس کے پڑپوتے تھے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بھی جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے لئے اپنا بستر اور رضائی دے کر بغلوں میں ہاتھ ا دیے ساری رات گزار دی تھی۔فعال خدمت گزار 1994-95ء میں جب قادر مہتم مقامی ربوہ تھے۔دریائے چناب میں شدید سیلاب آیا۔سیلاب کے بعد انتظامیہ نے آپریشن کلین اپ کیا بہت سے مکانات مسمار کر دیے۔جماعت کے ایک کارکن گلزار صاحب کا مکان بھی زد میں آ گیا۔گلزار صاحب مدد کے حصول کے لئے قادر صاحب کے پاس آئے۔قادر نے مکرم نعیم اللہ ملہی صاحب کو جو اُس وقت ناظم وقار عمل تھے، گلزار صاحب کی مدد کرنے کی ہدایت فرمائی چنانچہ خدام الاحمدیہ نے دریائے چناب کے اُس پار، جہاں گلزار صاحب کو متبادل زمین دی گئی تھی ، ان کا مکان تعمیر کروایا۔ربوہ سے مستری رضا کارانہ طور پر وہاں جاتے رہے۔خدام نے