مرزا غلام قادر احمد — Page 217
217 مزدوروں کی طرح کام کیا۔جب مکان تعمیر ہو گیا تو قادر وہاں تشریف لے گئے اور بہت خوشی کا اظہار کیا۔کام کرنے کے ذوق و شوق کا عجب عالم تھا۔اپنے ہاتھ سے محنت کے کام میں عار نہ سمجھتے۔بیت مبارک سے ملحق پلاٹوں میں سے ایک پلاٹ مجلس خدام الاحمدیہ کے سپرد ہے کہ اُن میں پودے لگوائیں اور صاف ستھرا رکھیں۔محترم صاحبزادہ مسرور احمد صاحب نے دیکھا کہ دو پہر تین بجے کا وقت ہے قادر خود مالیوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور پودے لگا رہے ہیں۔آج وہ پودے لگانے والا رخصت ہو چکا ہے مگر پودے اپنے ناظرین کے قلب و نگاہ کو مسرور کر رہے ہیں۔موت برحق ہے مگر مرنے کا اک انداز ہے موت جس پر لوگ مر جائیں بڑا اعزاز ہے بچوں پر شفقت بچوں سے شفقت کا ایک عجیب دلفریب واقعہ آپ کی زمینوں کے بیلدار کمیر علی جوئیہ نے سُنایا کہ ” میرے بچے نے ایک دفعہ چھوٹی سائیکل کی فرمائش کی تو آپ نے مذاق سے کہا کہ سامنے والے پلاٹ کی گھاس درست کر دو تو نئی سائیکل لے دوں گا بچہ خوشی سے کھل اُٹھا اور گھاس صاف کرنے لگا آپ کو بچے کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ بچے کو بڑی سائیکل دلا دی تا کہ اسکول جانے کے کام بھی آئے۔اب نہ صرف بچہ بلکہ ہم بھی سائیکل استعمال کر رہے ہیں اور میاں صاحب کو دُعا دے دیتے ہیں۔“