مرزا غلام قادر احمد — Page 204
204 قادر کی شخصیت میں اُن کی خاندانی شرافت و نجابت نے بہت دلنواز پہلو جمع کر دیے تھے۔غیر معمولی ذہانت، اعلیٰ تعلیم اور مزاج کی خاکساری و عاجزی نے مل کر اس مغل شہزادے کو Nobility کا ایک شاہکار بنا دیا تھا۔اُن کا سادہ بے تکلفانہ انداز اُن سے قریب ہونے والوں کو قریب تر لے آتا۔ایک دلنشیں مسکراہٹ اُن کے چہرے کے نقوش کا حصہ بن گئی تھی۔وہ ان شخصیات میں سے نہیں تھے جو وراثتاً کوئی قابل فخر بات مل جانے پر خود کو خواہ مخواہ ممتاز بنائے پھرتے ہوں بلکہ وہ تو اپنی موجود خوبیوں پر بھی پردہ ڈالے رہتے یہ خدائی کام ہیں کہ کردار کی خوشبو حجاب میں نہیں رہ سکتی۔جیسے کسی خوبصورت تصویر پر پڑا ہوا پردہ ہوا کی نرم سی سرسراہٹ سے اُس کی ہلکی سی جھلک دکھا کر پوری تصویر دیکھنے کا اشتیاق پیدا کر دیتا ہے۔اسی طرح قادر کے حُسنِ خُلق کی جستہ جستہ یادیں یہ تصور اُبھارتی ہیں کہ اُن کی ذات میں کیسا معمل حسن ہوگا۔ان ادھوری یادوں اور بھلیوں سے اُن کی دلنوازیوں کے اندازے لگائے جاتے رہیں گے۔والدین کا والہانہ احترام : قادر کو ماں باپ کی خدمت کا بہت سلیقہ تھا۔والدین کے لئے قرآنی دعا ہے۔رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔اے میرے ربّ میرے ماں باپ پر اُس طرح رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں ہم پر رحم کر کے ہمیں پالا تھا۔آپ کو خدا تعالیٰ نے یہ صلاحیت دی تھی کہ والدین کی اُسی احساسِ ذمہ داری کے ساتھ دیکھ بھال کریں جیسے انہوں نے اپنا آرام تج کر اپنے بچوں کی کی تھی۔زمینوں کا کاروبار آپ کے تجربے میں شامل نہیں تھا۔مگر والدین کے فکر کم کرنے کے لئے محنت اور عمدگی سے اس کام کو سنبھال لیا۔