مرزا غلام قادر احمد — Page 205
205 کندھے ناتجربہ کار تھے مگر بار اُٹھانے کا جذبہ رکھتے تھے۔محنت کے ساتھ دیانت داری شامل ہوگئی تو چند سالوں میں زمینوں کی شکل ہی بدل گئی۔حساب کتاب ستھرا رکھتے۔والدہ صاحبہ کی آنکھوں میں ایک منظر بسا ہوا ہے وہ بیمار تھیں قادر تیمار داری کے لئے آتے تو ایک نظر دواؤں پر ڈال لیتے جو دوا ختم ہوتی لا کر خاموشی سے رکھ دیتے اظہار تک نہ کرتے کہ میں نے کوئی خدمت کی ہے۔شادی کے بعد بھی دن میں دو تین چکر گھر کے ضرور لگا لیتے چھوٹے چھوٹے کام بھی نوٹ کرتے اور فکر سے کروا دیتے مثلاً ربوہ میں بجلی کی آنکھ مچولی سے جو کوفت ہوتی ہے اُس سے بچاؤ کے لئے Inverter لگوا کے دیا۔اگر امی ابا شہر سے باہر گئے ہوتے تو رات کو چکر لگا کر دیکھ لیتے کہ چوکیدار آیا ہے یا نہیں۔والدین کے چندے کی ادائیگی کرنا اور حساب کتاب رکھنا بھی آپ نے اپنے ذمہ لیا ہوا تھا بہت بشاشت سے چندے کی مد میں رقم نکال کر وقت پر پیش کر دیتے۔کالج کے زمانے میں موٹر سائیکل کی فرمائش کی۔موٹر سائیکل کی خطرناکی کی وجہ سے ہر ماں کو اس سے خوف رہتا ہے۔قادر نے یقین دلایا کہ وہ تیز نہیں چلائیں گے۔یہ مہنگی فرمائش پوری کر دی گئی۔حساس بیٹے کو خیال رہا کہ والدین پر بوجھ ڈالا ہے۔کالج کی تعلیم ختم ہوئی تو خود ہی موٹر سائیکل بیچ کر حاصل شدہ روپے لا کر ماں کے ہاتھ پر رکھ دیے۔حالانکہ اُن کو خرچ کا جتایا گیا تھا نہ مطالبہ کیا گیا تھا۔زندگی وقف ہونے کی وجہ سے ماں باپ کی نظر میں آپ کی تو قیر کئی گنا بڑھ گئی والد بھی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے کبھی کبھی پیار سے قادر کو شہزادہ