مرزا غلام قادر احمد — Page 173
173 مناسب اور مفید مقصد طریقے سے ترتیب دینے میں تقریباً روزانہ ہی رہنمائی، مدد اور تعاون سے نوازتے رہے۔ایک دن بھی ایسا نہیں آیا جب اپنے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ شہید مرحوم نے ہماری کوئی مشکل حل نہ کی ہو۔اور دستِ تعاون دراز نہ کیا ہو۔سچی بات یه هے که مرحوم ایک مثالی واقف زندگی تھے۔دل آویز شخصیت کے مالک تھے نہ کرنا انہیں آتا ہی نہیں تھا۔پاکستان سے انجینئرنگ کی ڈگری کے بعد امریکہ سے کمپیوٹر کی اعلیٰ تعلیم کے بعد بحیثیت واقف زندگی واپس تشریف لائے اور جاننے والے جانتے ہیں کہ کس طرح اپنی محبت، محنت، قابلیت اور اخلاص سے اپنے گردو پیش کو گرویدہ کر لیا۔وکالت وقف کو کا ایک مسئلہ یہ تھا کہ ربوہ کے تقریباً پچاس محلوں میں گھر گھر واقفین موجود تھے کسی ایک شہر میں دنیا بھر میں یہ سب سے زیادہ تعداد ان میں بچوں اور بچیوں اور ان کے والدین کی تربیت اور نگرانی اور تعاون کے لئے بالآخر تان شہید مرحوم ہی پر جا کر ٹوٹی اس کی تفصیل تو بہتر طور پر محترمی و مکرمی صاحبزادہ سید قمر سلیمان احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ہی بیان فرما سکتے ہیں خاکسار صرف اتنا عرض کرتا ہے کہ مرحوم شہید نے وقف کو ربوہ کا چارج سنبھالتے ہی محبت، محنت اور نہایت بالغ نظری سے کام کو نئے خطوط پر اُستوار کیا۔زبانیں سکھانے کے لئے لینگو ا یج لیب جاری کی اور یوں لگا جیسے ربوہ کے واقفین کے کام میں جان پڑ گئی ہو۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے ان کے بچوں اور غمگین والدین کا حافظ و ناصر ہو جس ظالمانہ طریقے سے اس معصوم کو شہید کیا گیا وہ اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے ورنہ مرحوم کی خوبیوں اور خدمات کو بیان کرنا عاجز کے لئے