مرزا غلام قادر احمد — Page 164
164 دیتے رہے اور خُدام لاحمدیہ کے عملہ میں سے دو کارکنان مکرم سید صہیب احمد صاحب اور مکرم طارق محمود صاحب کو تربیت دے کر تھوڑے ہی عرصہ میں اس قابل کر دیا کہ رسائل کمپیوٹر پر کمپوز ہو کے شائع ہوسکیں۔خُدام الاحمدیہ کے لئے اُن کی یہ ایک گرانقدر خدمت تھی کہ رسائل لیٹ ہو جانے کی دیرینہ شکایت دور ہوئی۔آپ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی عاملہ کے ممبر کے حیثیت سے کئی ایک کمیٹیوں کے ممبر بھی رہے جیسا کہ یکم رنومبر 1990ء سے۔31 اکتوبر 1994ء تک چار سال آپ اشاعت کمیٹی کے ممبر رہے۔قادر بظاہر خاموش طبع تھے مگر ان کی خاموشی کے پردے میں بے پناہ عملی قوت موجود تھی۔بظاہر وہ ناتواں کی جان تھی مگر عزم صمیم کا پیکر تھی۔خدام الاحمدیہ کے اس دور کے بعد جب ایڈیشنل دعوت الی اللہ کی ذمہ داری خاکسار کے سپرد ہوئی تو مرزا غلام قادر صاحب سے رابطوں کے سلسلے پھر بحال ہوئے۔وہ ہمارے اس شعبہ کے تعلق میں ضروری کوائف کا ریکارڈ رکھ کر عند الطلب ہمیں مہیا کرتے تھے۔اس میں بھی ہمیشہ ان کی طرف سے تعاون علی البر کے عمدہ نمونے دیکھنے میں آئے۔جب بھی ان سے کوائف لینے کی ضرورت پیش آئی انہوں نے خوش دلی سے بروقت ضرورت پوری کی۔مشورہ طلب کرنے پر کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر دیانت دارانہ رائے دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ انہیں اس کی بہترین جزاء عطا فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔یہ تو خالصتاً دفتری تعلق میں قادر کی چند یادیں تھیں مگر ایک خوش گفتار اور خوش کردار انسان کے ناتے بھی قادر صاحب ایسے نہیں تھے کہ انہیں جلد بھلایا جا سکے۔الغرض قادر نا قابل فراموش مقالہ ہے جس انداز میں جواں مردی سے انہوں نے جان دی اس حوالہ سے بھی وہ زندہ ہے اور رہے گا۔خُدام الاحمدیہ پاکستان کے پہلے کمپوزر مــکــرم سید صهيب