مرزا غلام قادر احمد — Page 165
165 احمد صاحب ابن مکرم سید داؤد مظفر شاہ صاحب آپ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے نواسے اور حضرت محمود اللہ شاہ صاحب کے پوتے ہیں) اس شبعے میں آپ کی خدمات کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:۔کمپیوٹر کے آنے سے قبل ہمارے ہاں رسالوں کی کتابت کا پرانا طریقہ رائج تھا یعنی کا تب سے لکھوایا جاتا تھا۔کا تب ایک مسطر پر کتابت کرتے تھے جو انہیں خود تیار کرنا پڑتی تھی۔سادہ کاغذ پر مسطر کشید کر کے اُسے چھپوایا جاتا تھا۔پھر اس پر ماوا تیار کر کے اس میں پیلا رنگ ڈال کر کاغذ کو رکھا جاتا تھا تاکہ نظر خراب نہ ہو۔سیاہی کان پور سے آتی تھی جسے اچھی طرح پکا کر تیار کیا جاتا تھا۔جو لفظ ٹوٹ جاتے تھے اُن کو دوبارہ اُلٹا ہی لکھنا پڑتا تھا۔اس لحاظ سے بے حد مشکل تھی۔گو کہ کتابت کی کاپی پڑھنی آسان تھی اور اس میں اغلاط کم ہوتی تھیں اور پلیٹ بھی جلد لگ جاتی تھی لیکن کتابت میں بہت زیادہ وقت لگتا تھا۔1990ء میں محترم حافظ مظفر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ تھے اور مکرم حبیب الرحمن زیروی صاحب مہتم اشاعت تھے جب کہ رسالہ ”خالد کے مدیر مکرم سید مبشر احمد ایاز صاحب اور رسالہ تفخیذ الاذہان کے مدیر مکرم فضیل عیاض احمد صاحب تھے۔دونوں رسالوں کی کتابت عموماً ایک ہی کا تب کیا کرتے تھے اور یوں ایک کاتب کے رحم و کرم پر ہونے کے باعث رسالوں کی اشاعت میں تاخیر کا مسئلہ ہمیشہ قائم رہتا۔اس لئے رسالوں کی کتابت بذریعہ کمپیوٹر کرنے کا پروگرام بنایا گیا۔اس مقصد کے لئے مکرم مرزا غلام قادر صاحب کے ذریعہ لاہور سے کمپیوٹر کی خریداری کی گئی۔چنانچہ دو کمپیوٹر Apple Macintosh خریدے گئے اور ان میں اردو پروگرام نستعلیق نظامی ڈالا گیا۔جب یہ کمپیوٹر لائے گئے تو ” سرائے خدمت ( گیسٹ ہاؤس) کے ایک کمرے