مرزا غلام قادر احمد — Page 98
98 طالب علم تھا بلکہ آپ اُسے درمیانے درجہ کا طالب علم کہہ سکتے ہیں۔شرارت بھی کرتا تھا مگر حد ادب میں رہتے ہوئے دورانِ اسکول ایک بارمیں کسی کام سے ہیڈ مسٹریس کے کمرہ میں گئی اور مجھے وہاں کچھ دیر ہو گئی۔جب میں واپس آئی تو میں نے دیکھا کہ تمام سٹوڈنٹس ایک دوسرے کی قمیصیں پکڑے قطار میں ریل گاڑی کی طرز پر منہ سے آوازیں نکالتے ہوئے کلاس کے ارد گرد چکر لگا رہے ہیں اور سب سے آگے قادر تھا جو اُس وقت لیڈر بنا ہوا تھا۔میں نے ہلکا سا ڈانٹا تو اُس نے بڑے ہی ادب سے معذرت کر لی۔واقعتاً وہ اُستاد کو عزت سے نہیں بلکہ عقیدت سے دیکھتا تھا جو اُس کی آنکھوں سے جھلک جھلک پڑتی تھی۔“ قادر کے ایک قریبی عزیز اور کلاس فیلو مکرم ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب ابن صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب بچپن کی حسین یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں۔” میں نے اور قادر نے نرسری سے ساتھ پڑھنا شروع کیا۔اُن سے متعلق پہلی یاد ذہن میں کون سی ہے، یہ کہنا بہت مشکل ہے البتہ ذہن میں مہم سا خاکہ ہے کہ ایک گورے رنگ کا خوش شکل لڑکا جو تھوڑا سا تتلاتا بھی تھا۔وہ قادر تھا۔اُن دنوں ان کا گھرانہ انجمن کے گھر میں رہتا تھا۔جہاں پہلے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رہتے تھے۔ہم لوگ برابر میں اپنے دادا حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کے گھر میں رہتے تھے۔درمیان میں ایک دیوار تھی کئی دفعہ ایسا ہوا کہ اُس نے دیوار پر چڑھ کر مجھے آواز دی تو تلا ہٹ کے باعث سلطان اس طرح لگتا کہ شیطان سنائی دیتا اور سب ہم پر ہنسنے لگتے۔اُن دنوں قادر کو قادر نہیں کہا جاتا تھا بلکہ پیار سے کی کی، کہا کرتے