مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 481 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 481

481 حاصل کر کے اپنے ملک، اپنے آبائی علاقے کو فائدہ پہنچانے کے لئے ایک معمولی حیثیت کی گزر بسر کو ہی اپنا نصب العین بنا لیں تا کہ پھر کچھ لوگ بغیر کسی مقصد کے ایک دن انہیں گولیوں کا نشانہ بنا ڈالیں۔۔۔۔۔۔۔اور سارے قاتل ” پولیس مقابلے میں ٹھکانے لگا دیے جائیں تا کہ کوئی شواہد ، کوئی گواہ نہ رہے۔آخر اس طرح کی بے مقصد زندگی گزارنے یا جینے کا انہیں کیا حق ہے؟ ایسے کتنے آصف اور کتنے قادر ہوں گے، جو ایک بے مقصد گولی کی بھینٹ چڑھ گئے جن کی زندگیوں اور موت کو آپ کوئی منطقی رنگ نہیں دے سکتے اور ایسے بھی بہت سے ہیں جنہوں نے اسی بے مقصدیت سے تنگ آکر خود کشی کر لی یا خود کو جلا کر ختم کر ڈالا۔یہ سب زندگیاں اور ان سے وابستہ دوسری زندگیاں آخر کس مقصد کے کھاتے میں جائیں گی؟ ایک وقت تھا کہ مجھے زندگی سے مایوس ہونے والوں سے چڑ آتی تھی نااُمیدی کا لفظ میری ڈکشنری میں نہیں تھا۔میری کوشش ہوتی تھی کہ میں اپنے فعل سے اپنے رویے سے اپنی باتوں سے کاموں اور اپنی تحریروں سے لوگوں کو زندہ رہنے اُمید اور حوصلے کے ساتھ مشکلوں کو برداشت کرنے کا جذ بہ عطا کروں لیکن اب مجھے لگتا ہے یہ سب فضول ہے یہ پوری انسانی نسل ایک بے مقصد تگ و دو یعنی Exercise in Futility میں مبتلا ہے۔زمانے بھر سے پیغمبروں، ولیوں اور اوتاروں نے اپنی سی کوشش کر کے