مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 384 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 384

384 تو نے دکھائی ہم کو نئی زندگی کی راہ جس کے ہے ہر قدم پہ کھڑا امتحان خاص خوشیاں سمیٹتے ہوئے خوشبو بکھیر تے چھپ کر چلے گئے ہو بصد امتنان خاص پہنچے ہو رب کے پاس بڑے اہتمام سے اللہ کے ہو تا ابد اب مہمانِ خاص دیکھو امامِ وقت کو ہے تم سے کتنا پیار تم کتنے خوش نصیب ہوائے نوجوان خاص فُزْتُ بِرَبِّ كَعْبَہ“ کا نعرہ لگا دیا تم کامیاب ہو تم ہی ہو کامرانِ خاص مولا کی آج تم پر پڑی نظر انتخاب تم ہی چنے گئے ہو بصد عز وشانِ خاص چشم زدن میں طے کیا تو نے وہ مرحلہ جس کی تلاش میں رہے ہیں بندگانِ خاص مولا کرے کہ ہم میں سے ہر اک کو ہو نصیب تیری ادائے منفرد تیری زبان خاص کیجئے دعائے صبر اب ان کے لئے نبیل مرزا نبیل احمد جو رہ گئے ہیں بعد میں پس ماندگانِ خاص ماہنامہ خالد ربوہ ستمبر 1999ء) بچھڑ گئے تم سے یہ لگتا ہے ہم نہیں زندہ ستم یہ کیا کوئی دیکھے تو بس ہمیں زندہ خیالِ یار ہم آغوش دم قدم اپنے عجیب کیفیت جاں، عجب یقیں زندہ نگر کا بوجھ اُٹھائے ترے شہید نگاہ کہیں نگاہ سے اوجھل ہوئے کہیں زندہ عجب نموتھی مرے زخم زخم پھولوں میں جہاں بھی کٹ کے گرے کھل اُٹھے وہیں زندہ ہزار سجدے گزارے تھے آدمی نے مگر گری جو خاک پہ وہ ہوگئی جبیں زندہ