مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 33 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 33

33 چہرے پر بھی زخموں کے نشان تھے۔جنازے کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ دیے گئے تھے۔جنازے کے گرد خُدام الاحمدیہ کے رضا کاروں نے ہاتھ میں ہاتھ دے کر ایک دائرہ بنا رکھا تھا۔ذکر الہی کے ساتھ ، دبی وبی سسکیوں کے ساتھ ، سروں پر آفتاب اُٹھائے یہ قافلہ چھ بجے دفتر صدر انجمن احمد یہ میں سے گزرتا ہوا ہسپتال کے سامنے پہنچ کر بسوں کے اڈے کی طرف مڑ گیا۔عام قبرستان میں قطعہ شہداء کی چار دیواری میں تدفین عمل میں آئی۔( قادر قطعۂ شہداء میں دفن کئے گئے۔پھر چھ ماہ کے بعد 23/اکتوبر 1999ء کو صبح نماز فجر کے بعد اُن کے تابوت کو قطعۂ خاص میں منتقل کر دیا گیا۔ساڑھے چھ بجے کے قریب صاحبزادہ مرزا مسرور احمد نے دعا کروائی۔) گوسو برس رہا ہے آخر کو پھر جدا ہے شکوہ کی کچھ نہیں جا۔یہ گھر ہی بے بقا ہے جماعت نے صبر کا حیرت انگیز نمونہ دکھایا۔سب یاد الہی میں مگن رہے۔کہیں سے جزع فزع کی آواز نہیں آئی۔کوئی غم و غصے کا اظہار نہیں کیا گیا۔ہزاروں کے اجتماع میں ایسی ترتیب و تنظیم جیسے ہر فرد اپنا خود نگران ہو۔غم کا بادل ٹوٹ کر بستی پہ برسا تھا ندیم ضبط کا دریا کناروں سے مگر چھلکا نہیں مامورین من اللہ کی تصدیق کرنے والوں پر ارضی خداؤں کا ظلم و استبداد لمبی کہانی ہے۔اس صدی کے آغاز میں 4 جولائی 1903ء کو سرزمینِ کابل پر مسیح زماں پر ایمان لانے والے مجاہد سید عبداللطیف شہید کا خون بہا تھا۔حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا تھا: وو یہ خون بڑی بے رحمی کے ساتھ کیا گیا ہے اور آسمان کے نیچے ایسے خون کی نظیر نہیں ملے گی۔ہائے اس نادان