مرزا غلام قادر احمد — Page 333
333 تیرے نصیب میں آئی حیات لافانی مكين خُلدِ بریں تیری رفعتوں کو سلام اے مرزا غلام قادر تو حتی ہے جب احیاء سے تیری ملاقات ہو تو اپنے مقدس جد امجد کی خدمت میں دست بستہ عرض کرنا کہ بڑے ابا آپ کی قائم کردہ جماعت اللہ کے فضل اور اس کی توفیق سے آپ کی انہی دعاؤں کی مستحق ہے جو آپ نے 1903ء میں حضرت شہزادہ صاحب کے لئے کی تھیں اور کہنا کہ جماعت کے روحانی باپ! دیکھ کہ: آج پیراہن ہستی بھی کیا نذر جنوں آخری تھا یہی ہدیہ تیرے سودائی کا ہمارے چاروں خلفائے کرام نے جماعت کی تعلیم و تربیت بھی اس نج پر کی ہے کہ اب وہ خطرات کے بادلوں سے گھبراتے نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دامنِ رحمت سے چمٹ کر آپ ہی کے الفاظ میں التجائیں کرتے رہتے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسی ڈگر پر چلنے کی توفیق بخشے جس پر ہمارے بزرگ چل کر سرخرو ہوئے اور فوز و فلاح پا گئے۔اے اللہ کریم و قدیر میاں غلام قادر کے بزرگ والدین اور صابرہ و شاکر بیگم اور معصوم بچوں کی تولیت اور کفالت اپنے ہی ذمہ لے لے اور اپنی شفقت اور فضلوں کے ہاتھ سے ان مجروح دلوں کے سارے زخم مندمل فرما دے اور میاں مرحوم کی والدہ ماجدہ جو اگر چہ صبر وشکر کی اعلیٰ مثال قائم کر رہی ہیں مگر فطری اور طبعی تقاضے بھی ساتھ ہی ہیں اور ان کے ساتھ ہجر و فراق کے تیر اور اپنے لختِ جگر کی جواناں مرگ کے روح فرسا نظاروں نے انہیں نیند سے محروم کر دیا ہے۔