مرزا غلام قادر احمد — Page 311
311 اُن کے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھا۔جانے والے کی حیات ابدی کا شعور راسخ کر کے سب کو تنہائی کی اذیت سے بچا لیا۔ہم سب نے دل کی آنکھوں سے آپ کے صدمے کو قدرے چھلکتے ہوئے دیکھا مگر کمال برداشت سے حوصلہ قائم رکھتے اور حوصلہ دیتے ہوئے بھی دیکھا۔محبت کرنے والی جماعت کے چھوٹے بڑے سب آنسو بہا رہے تھے مگر اپنے آقا کی طرف دیکھا نہ جاتا تھا مولیٰ کریم نے اسی ” نادار کو ناداروں کا سہارا بنا دیا۔غم کی لہریں اپنی جگہ فرائض اپنی جگہ اُسی دن شام کو آپ نے اردو کلاس کی ریکارڈنگ ملتوی نہیں کی بلکہ بے بسی ہائے تماشا کے اسیر بڑے کر بناک لہجے میں اردو کلاس کو ” آج کی خبر سناتے ہیں۔شہادت کی خبر : آج سب سے پہلے ایک غم اور خوشی کی خبر ہے خوشی اس لئے کہ شہادت جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیب ہو وہ دائی زندگی کی بشارت ہوتی ہے بہت عظیم خبر ہوتی ہے۔اور اس میں پچھلوں کے لئے غم بھی ہوتا ہے۔آج کی خبر یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پڑ پوتا جو ایک بہت ہی اعلیٰ درجے کا واقف زندگی تھا اُن کا نام تھا غلام قادر شہید ہو گیا ہے۔دھرا رشتہ : فرمایا اس سے میرا دُہرا رشتہ بنتا تھا۔اصل رشتہ تو اس کے پُر خلوص وقف کا تھا۔بہت اعلیٰ درجہ کا واقف زندگی تھا اور بہت اچھی تعلیم حاصل کی۔لیکن قطعاً دنیا کی پرواہ نہیں کی۔اور وقف کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔وہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد کا پوتا اور صاحبزادہ مرزا مجید احمد اور قدسیہ بیگم جو ہمارے پھوپھا جان کی بیٹی ہیں ان کا بیٹا ہے۔