مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 291 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 291

291 کبھی کبھی فیصل آباد اور کبھی سرگودھا کھانا کھلانے لے جاتا تھا موٹر وے کھلی تو کلر کہار لے گیا۔ہم دونوں ہی سفر کے شوقین تھے اس لئے گرمی میں چھٹیوں میں سیروں کے علاوہ بھی ہم نے چھوٹے چھوٹے بہت سفر کئے اور یہ سفر اب یادگار بن گئے ہیں۔نمایاں تبدیلیاں تین چار مہینوں سے قادر کی طبیعت میں نمایاں تبدیلی تھی۔بہت زیادہ نرم مزاج ہو گیا تھا۔مجھے ہمیشہ اس سے گھر میں وقت نہ دینے پر اور اسی مصروفیت کی بنا پر گھر کے بعض کام Late کرنے پرشکوہ رہا مگر ان تین چار مہینوں میں اس نے یہ شکوہ بھی دور کر دیا۔گھر میں بھی وقت دینے لگا تھا اور گھر کے جو کام رُکے ہوئے تھے وہ بھی کر دیے، آخری دن ناشتے کی میز پر میں نے اسے کچھ کام یاد کروائے تو وہ تمام کام کروا چکا تھا۔مجھے یاد ہے ہم پھولوں کی نمائش پر بیٹھے تھے میں نے قادر سے کہا تھوڑا سا وقت آرام کے لئے بھی نکال لو تو پہلی دفعہ قادر کے منہ سے سنا کہ ہاں اب میں فارغ ہوں بس صرف ایک کام رہ گیا ہے وہ کسی سے دعوت کا وعدہ کیا ہوا ہے یہ وعدہ پورا کرلوں تو فارغ ہو جاؤں گا۔مجھے اس کے اس طرح بات کرنے پر حیرت بھی ہوئی اور واقعی چند دنوں کے بعد ہی ہر کام سے فارغ ہو کر وہ ہمیشہ کے لئے آرام کی نیند سوگیا۔آخری دو دن تو دفتر سے آنے کے بعد اس نے تقریباً سارا وقت ہمارے ساتھ گزارا۔یہ بھی اللہ کا احسان ہے کیونکہ وہ تو جانتا تھا کہ اب بس دو دن اس کے ہمارے ساتھ باقی رہ گئے ہیں۔11 اپریل کو میں سیالکوٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کمرہ جہاں آپ 4 سال تک رہائش پذیر رہے دیکھ کر آئی تھی واپسی پر مجھے اتنی اُداسی تھی کہ میں 2 دن قادر کو یہی کہتی رہی کہ مجھے لگتا ہے کہ میں اپنا