مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 248 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 248

248 بتایا جب اس کا پہلا رشتہ اپنی خالہ کی بیٹی سے گیا تو ایک دن آکر میرے ساتھ لیٹ گیا امی میں نے آپ سے ایک بات کرنی ہے کسی سے ذکر نہ کریں میں ڈر گئی خدا جانے کیا بات ہے کہتا لڑکی کو میرے فیوچر کا پتہ ہونا چاہیے میں نے زندگی وقف کرنی ہے۔یہ 1983ء کی بات ہے کیونکہ اس کی خاموشی کی عادت تھی مجھے اُمید نہیں تھی کہ یہ وقف کرے گا۔میں تو اسی وقت اُٹھی اور سجدے میں گر گئی۔قادر تم نے وہ خوشی دی هے که سات بادشاہتیں مل جاتیں تب بھی نہ ملتی۔مجھے لگا آج میری دُعاؤں کا ثمر مل گیا ہے۔جس کے لئے رشتہ گیا تھا میری چھوٹی بہن کی بیٹی تھی جس کے ابا سات آٹھ سال کی عمر میں فوت ہو گئے تھے میری بہن بھی کم عمر تھی۔وہ بچی امی کو بہت عزیز تھی وہ کم عمری میں فوت ہو چکی ہے) کئی چیزوں نے مل کر میرے دل میں خواہش پیدا کی ہوئی تھی کہ اس کا رشتہ قادر سے کروں۔عمر کا جوڑا تھا میں امی کو خوشی دینا چاہتی تھی اور اپنی بہن کا بوجھ کم کرنا چاہتی تھی۔مگر رشتے تو آسمانوں پر ہوتے ہیں۔اس کا انکار ہو گیا۔مجھے سخت صدمہ ہوا کیونکہ دس بارہ سال کی خواہش اور ایک طرح یقینی بات تھی صدمہ قدرتی تھا۔قادر نے لاہور سے مجھے خط لکھا اس رشتہ سے انکار پر۔مجھے صدمہ میں دیکھ کر۔مجھے لگا کسی بزرگ نے میرے سے کسی بڑے نے خط لکھا ہے۔( یہ خط۔صفحہ 271 پر ہے۔) اس خط سے ظاہر ہوا کہ کتنا فرمانبردار اور کتنے ٹھوس خیالات رکھتا تھا۔اسی طرح ایک اور خط لکھا بعد میں جب امی نے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔کم عمری میں ہی امی کا احترام بڑی امی کی حیثیت سے نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد ہونے کی حیثیت سے تھا۔جب اس کی خالہ کی بیٹی سے