مرزا غلام قادر احمد — Page 235
235 بے حد کراری آواز میں بول رہی تھیں۔کوئی کمزوری نہیں لگتی تھی جس سے لگے کہ تکلیف سے گزر رہی ہیں۔غلام قادر آ گیا واقعی میں بے حد خوش تھی۔میرا غلام قادر آ گیا تھا۔جس کا مجھے انتظار تھا حضرت صاحب کا یہ الہام تذکرے میں پڑھ کر کئی سال سے دل میں چھیا کر رکھا تھا۔کسی سے ذکر نہیں کرتی تھی کہ کوئی اور یہ نام نہ رکھ لے۔دعائیں کرتی تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے غلام قادر دے جو اس الہام کا مصداق ہو۔غلام قادر آگئے۔گھر نور اور برکت سے بھر گیا) فرمانبرداری اس کی فرمانبرداری کے کئی واقعات ہیں۔مگر معصوم سا چہرہ اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے۔یہ آٹھ نو سال کا تھا۔بڑی بہن سے دس گیارہ سال چھوٹا تھا۔وہ تقریباً اٹھارہ سال کی تھی۔کسی بھائی نے اپنی بہنوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کیا مجھے بے حد تکلیف ہوئی کہ بیٹیوں کے لئے تو بھائی کا گھر ہوتا ہے۔محمود میرا بڑا بیٹا باہر تھا۔میں نے قادر کو پاس بٹھایا اور کہا قادر میری ایک بات یاد رکھنا۔کہ چوچو بھی تمہاری بیٹی ہے۔(بڑی بہن ) معصوم سے بچے کا چہرہ آج بھی میری نظروں کے سامنے ہے۔سر جھکایا ہوا تھا۔کہتا اچھا۔اس آٹھ سال کے بچے نے اُلٹ کر نہیں کہا کہ امی وہ تو باجی ہیں۔مجھ سے اتنی بڑی ہیں۔وہ واقعی اپنی چھوٹی بہن سے بیٹیوں والا سلوک کرتا تھا۔خاموش خیال خاموش احساس، وہ بہن اس طرح بلک بلک کر رو رہی تھی جیسے اس کا سب کچھ لٹ گیا ہو۔قرآن حفظ کرنے بٹھایا اس نے خاموشی سے قرآن حفظ کرنا شروع