مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 199 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 199

199 سے پوچھتے تھے کتنا کام ہوا ہے تا کہ یہ انداز ہو سکے کہ فلاں کام کتنی دیر میں ختم ہو سکے گا۔اگر کسی کارکن کی رپورٹ دیتے تو حق بات کہتے حتی الوسع کوشش کرتے کہ کسی کی سائٹ خراب نہ ہو۔دفتر ہی میں کمپیوٹر سے متعلق کتب کی ایک لائبریری بنا رکھی تھی جن سے اکثر Help لیتے رہتے تھے۔دیگر کارکنان کو بھی ان کتب سے مستفیض ہونے کی ترغیب دیتے۔دفتر اکثر پینٹ شرٹ پہن کر آتے لیکن جمعہ والے دن عموماً شلوار قمیص پہنتے تھے۔گو کہ آپ انگلش بے حد روانی سے بول سکتے تھے لیکن کبھی بھی اپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کی کوشش نہ کی۔سچ یہ ہے کہ آپ میں تصنع تھا ہی نہیں۔دفتر میں زیادہ تر اردو میں بات کرتے تھے۔اگر باہر سے کوئی پنجابی بولنے والا آجاتا خصوصاً کوئی مزارع وغیرہ تو اُس کے ساتھ پنجابی ہی میں بات کرتے۔افسرانِ بالا سے انتہائی مؤدبانہ رویہ رکھا ہوا تھا لیکن عموماً اپنے کام سے کام رکھتے یعنی خوشامد پسند نہ تھے۔کمپیوٹر میں ماہر اور تعلیم یافتہ ہونے کے باعث بہت سے لوگ آپ سے اپنے بچوں کی تعلیم کے سلسلہ میں مشورہ کے لئے آتے۔ہزار مصروفیات کے باوجود بھی آپ نے کبھی ناگواری کا اظہار نہ کیا۔بعض اوقات لوگ گھنٹہ گھنٹہ بیٹھے رہتے اور معلومات لیتے رہتے، آپ انہیں مکمل گائیڈ کرتے۔ہم تمام کارکنان کی یہ متفقہ رائے ہے کہ دس سال کے عرصہ میں انہوں نے کبھی کسی کارکن کو ڈانٹا یا جھڑ کا نہیں جب بھی ان کی یاد آجائے تو بے اختیار دُعائے خیر نکلتی ہے یوں لگتا ہے کوئی بہت قریبی عزیز بچھڑ گیا ہو۔مکرم سعید احمد خان صاحب مراقب خُدام الاحمدیہ پاکستان:- خاکسار نے شعبہ مال کے حوالے سے جو بھی سیکھا وہ سب میاں صاحب ہی سے سیکھا نہایت نفیس اور سلسلہ کے فدائی انسان تھے مجھ سے کوئی میرا آئیڈیل پوچھے تو میری زبان سے میاں صاحب کا نام ہی نکلے گا۔