مرزا غلام قادر احمد — Page 192
192 کروانے کے لئے بھی ایکسپرٹ کو بلانا پڑتا اور وہ دوسو روپے فی کمپیوٹر چارج کرتا۔جب میں نے اس کام کا بل دیکھا تو قادر صاحب سے کہا اس قسم کا کام تو خود گھر میں اپنے کمپیوٹر پر کرتا رہتا ہوں آئندہ ہم خود کریں گے۔آہستہ آہستہ میرے خاموش اُستاد نے خاکسار کو ہارڈ ویئر اور کمپیوٹر کی خریداری سکھانے کا پروگرام بنایا جب بھی کسی دفتری کام سے لا ہور جاتے عموماً خاکسار ساتھ ہوتا۔شروع میں جس فرم سے کمپیوٹر کی خرید اور مرمت کا کام کروایا کرتے تھے خود اُن کے دفتر میں بیٹھتے اور مجھے اُن کی ورکشاپ میں بھیجتے اور دفتر میں بھی خاکسار کو اس چیز کی کھلی اجازت تھی کہ تمام کمپیوٹرز کھول کر جس طرح مرضی آپریشنز کرتا رہوں شروع میں مجھے اس چیز کی سمجھ نہیں آئی لیکن آہستہ آہستہ بات مجھ پر کھلی کہ یہ میری تربیت کا سامان کیا جارہا ہے۔اس طرح ان ورکشاپوں میں بہت وقت گزارنے سے جلد ہی ہم اس پوزیشن میں آگئے کہ ہارڈ ویئر کے سارے داؤ پیچ اللہ کے فضل سے سمجھ گئے اور آپ کی شہادت تک اللہ کے فضل سے کبھی بھی کمپیوٹر کی مرمت پر کوئی قابل ذکر خرچ نہیں کیا پیچیدہ سے پیچیدہ کام خود کیا۔جب آپ مہتمم خُدام لاحمد یہ تھے خاکسار کو آپ کے ساتھ بطور ناظم اُمور طلبا کام کرنے کا موقع ملا۔آپ نے ہدایت دی کہ طلبا کو کمپیوٹر ٹرینگ دینے کا اہتمام کیا جائے جو بالکل Free ہو۔بے انتہا شفقت تھی خاکسار کے ساتھ جس کا اظہار عملی ہوتا تھا اور نہایت خاموشی سے ہوتا تھا۔جب تحریک جدید اور صدر انجمن کے شعبہ جات علیحدہ علیحدہ ہوئے تو بھی آپ نے صرف ایک کارکن کا انتخاب اپنے ساتھ کرنا تھا محض آپ کی شفقت اور اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ خاکسار کو اپنے ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا حالانکہ میں اپنے کولیگز میں سب سے نا اہل، نا تجربہ کار اور