مرزا غلام قادر احمد — Page 193
193 جوئیر تھا۔آہ! ظالموں نے مجھ سے میرا خاموش اُستاد چھین لیا۔گو کہ آپ نے بہت بڑا رتبہ حاصل کر لیا لیکن خاموشی سے یہ درس دے گئے کہ جماعت کی خاطر جان، مال، وقت اور عزت کو کس طرح قربان کیا جاتا ہے۔عامر لطیف بٹ صاحب جو صاحبزادہ صاحب کی عاملہ میں معتمد مقامی کے عہدے پر فائز تھے، آپ کے کام کرنے کے انداز کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- خدام سے ذاتی رابطے کے لئے کثرت سے ربوہ کے محلوں کے دورے کرنے کی وجہ سے آپ خدام میں بہت مقبول ہو گئے۔کمپیوٹر میں اعلیٰ تعلیم نے آپ کو سلیقے اور سسٹم سے کام کرنے کی عادت ڈالی خود شعبہ جات کی با قاعدہ فائلیں بنوائیں اسی طرح ہر محلہ کی بھی علیحدہ علیحدہ فائل بنوائی جس میں اس محلہ کے خدام کے متعلق امور درج ہوتے تھے۔میٹنگ میں شعبوں کے ناظمین کی رائے کو اہمیت دیتے۔میٹنگ کے لئے خود ایجنڈا بناتے۔وقت کے پابند تھے اگر مقررہ وقت پر حاضری کم ہوتی تو بھی اجلاس شروع کروا دیتے۔مرکز سے ملنے والی ہدایت کی پوری پابندی کرتے بلکہ اپنے پروگراموں کو ترک کر کے بھی مرکز کی طرف سے ملنے والے پروگرام کو عملی جامہ پہناتے۔ہر فیصلہ انتہائی تدبر اور دانش سے کرتے اور جو فیصلہ کر لیتے پھر اس پر قائم رہتے اور عموماً خدا تعالیٰ بھی آپ کی عجب رنگ سے تائید کرتا۔دستور اساسی اور لائحہ عمل جس کام کی اجازت دیتے آپ اس پر بلا روک ٹوک عمل کرتے۔اور ناظمین کو بھی یہی ہدایت دیتے کہ کوئی بھی پروگرام بناتے وقت دستور اساسی اور لائحہ عمل کو ضرور مد نظر رکھا کریں۔دفتر با قاعدہ آتے تھے اور رات دیر گئے تک دفتری امور نمٹاتے رہتے تھے۔اکثر اوقات جب رات کو